نظام بدلیں، نئے صوبوں سے اخراجات کم، گورننس بہتر ہوگی: میاں عامر محمود

لاہور: (دنیا نیوز) چیئرمین پنجاب گروپ آف کالجز میاں عامر محمود نے کہا ہے کہ ہمارے ملک میں اچھے حکمران بھی آئے، ہمیں حکمران بدلنے کے بجائے نظام بدلنا ہوگا، نئے صوبے بننے سے اخراجات کم ہوں گے، گورننس بہتر ہو گی، نوجوان بہتر گورننس چاہتے ہیں۔

ایکسپو سنٹر لاہور میں گڈ گورننس کے فروغ کے لیے ’میرا صوبہ، میرا نظام‘ آگاہی مہم کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے چیئرمین پنجاب گروپ آف کالجز میاں عامر محمود نے کہا کہ چودھری عبدالرحمان ہمارے نوجوانوں کو درست راستہ دکھارہے ہیں، دنیا میں تمام میئر، گورنرز ہمیشہ اپنے صوبے اورگورننس کی بات کرتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ دنیا کے ہر ملک نے آبادی بڑھنے کے ساتھ انتظامی یونٹس بڑھائے ہیں، نئے صوبے بننے سے خرچے کم ہوں گے، یہ خیال غلط ہے کہ نئے صوبوں سے خرچے بڑھیں گے۔

پنجاب ہر سال بلوچستان کو اربوں روپے دے رہا ہے

 چیئرمین پنجاب گروپ آف کالجز میاں عامر محمود نے کہا کہ پورے پاکستان میں پنجاب کو گالی دی جاتی ہے، دیکھنا ہوگا اس نفرت کی وجہ کیا ہے، پنجاب ہر سال بلوچستان کواربوں روپے دے رہا ہے، پھر بھی پنجابیوں کے شناختی کارڈ دیکھ کربسوں سے اتار کرمارا جاتا ہے۔

میاں عامر محمود نے کہا کہ پنجاب کے لوگ تیار ہیں کہ چھوٹے صوبے بنائے جائیں، بلوچستان کے 8 ڈویژن میں صوبے بنیں گے، بلوچستان کے صوبے سب سے زیادہ امیر ہوں گے، چھوٹے صوبوں میں سب سے زیادہ فائدہ بلوچستان کو ہوگا، دوسرے نمبرپرسندھ کے نئے صوبے امیر ہوں گے، آج ہمارے پاس موقع ہے کہ اپنے مستقبل کی بہتری کیلئے قدم اٹھائیں۔

انہوں نے کہا کہ سندھ میں تھر کے علاقہ میں بہت صلاحیت موجود ہے، پاکستان میں سکول نہ جانے والے بچوں کی تعداد دنیا میں سب سے زیادہ ہے، سکول جانے والے بچوں کی اکثریت پانچویں کلاس کی کتاب نہیں پڑھ سکتی۔

پنجاب کو سب سے زیادہ قربانی دے کر بھی نفرت ملتی ہے

انہوں نے کہا کہ پاکستان میں اچھی حکومتیں بھی آئیں لیکن عام آدمی کو کوئی فائدہ نہیں ہوا، جائزہ لیا گیا تومعلوم ہوا کہ آپ کروڑوں آبادی والے صوبے نہیں چلاسکتے، 172 ممالک پنجاب سے چھوٹے ہیں، ہمارا ایک فیڈریٹنگ یونٹ باقی تینوں کو ملا کر بھی بڑا ہے۔

انہوں نے کہا کہ پنجاب سب سے زیادہ قربانی دیتا ہے لیکن نفرت ملتی ہے، صوبے چھوٹے ہونے سےعام آدمی تک وسائل پہنچیں گے، ابھی صرف کیپیٹل سٹیز تک وسائل پہنچتے ہیں، کوئی بھی صوبائی حکومت اچھا بلدیاتی نظام لے کر نہیں آئی، ہمیں چھوٹے صوبے بنانے ہیں جن کےاندر بھی لوکل گورنمنٹ بنے گی۔

 میاں عامر محمود نے کہا کہ ہم اپنا نظام اپنی جگہ پرلائیں گے، اس ملک کے نوجوان چاہتے ہیں کہ اچھی گورننس ملے، ہمیں بہت امید ہے کہ پاکستان آگے بڑھے گا، وفاق سے جو پیسہ جائے گا اس کا زیادہ فائدہ بلوچستان میں بنے نئے صوبوں کو ہوگا، ہم نے آج تک صرف کیپیٹل سٹیز پرتوجہ رکھی اورانہی کو آباد کیا۔

چیئرمین پنجاب گروپ آف کالجز نے بتایا کہ آج تمام صوبوں نے کراچی، لاہور، اسلام آباد، کوئٹہ اور پشاور کےعلاوہ کوئی نیا شہر آباد نہیں کیا، تلاش کررہا ہوں سکھر کو کراچی سے کیا فائدہ ہورہا ہے؟ آج ہمارے پاس بہتری کا موقع ہے، تھرسے کوئلہ نکل رہا ہے اورانڈسٹری لگ رہی ہے۔

تھر کراچی سے زیادہ امیر صوبہ بنے گا

انہوں نے کہا کہ تھر اگر اپنا پورا پوٹینشل دکھائے تو کراچی سے زیادہ امیر صوبہ ہوگا، یہی کوشش ہے کہ ہمارے بچوں کواچھا مستقبل ملے، بہترین مستقبل اچھی گورننس کے بغیر ممکن نہیں، ہم جس فورم پر آج جمع ہیں یہ روشن مستقبل کی ایک کرن ہے۔

میاں عامر محمود نے کہا کہ پرائیویٹ سیکڑ سے پہلے اصل ذمہ داری حکومت کی ہوتی ہے، ہمارے ملک میں 25.1 ملین بچے سکول نہیں جا رہے، سکول جانے والے 70 فیصد بچے کلاس 5 میں ہیں مگر تیسری جماعت کی کتاب نہیں پڑھ سکتے۔

انہوں نے بتایا کہ ہمارے ملک میں اچھے حکمران بھی آئے، ہمیں حکمران بدلنے کے بجائے نظام بدلنا ہوگا، میرا صوبہ میرا نظام مہم کو آگے بڑھانا ہوگا، ہمیں اپنی مرضی کا نظام اپنی جگہ، شہر اور صوبے میں لانا ہے، آئندہ نسل کو خوشحال، آگے بڑھتا اور ترقی کرتا پاکستان دے کر جائیں گے۔

چھوٹے صوبوں میں اضافی بیورو کریسی نہیں لگے گی 

میاں عامر محمود نے کہا کہ چھوٹے صوبوں میں لوکل گورنمنٹ نظام ضرور ہوگا، کل 33 وزرائےاعلیٰ ہوں گے، جو کام کریں گے وہ میرٹ پر آگے آئیں گے، وزرائے اعلیٰ میں سے جو کام کرے گا وہ وفاقی سطح پر بھی آئے گا۔

انہوں نے کہا کہ ترکیے میں صدرطیب اردوان لوکل گورنمنٹ نظام سے آئے، فرانس اوربھارت میں بھی ایسے ہی ہوا، ہم اپنی تحریک عام آدمی کےپاس لائے ہیں، سیاسی قیادت نے ہمیشہ عوام کے مطالبے کے پیچھے جانا ہوتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ پنجاب 13کروڑ کا صوبہ ہے، اس میں جوبیورکریسی چاہئے، وہ 2کروڑ کےصوبے میں نہیں چاہئے، چھوٹے صوبے میں سیکرٹریز اورایڈیشنل سیکرٹریز کی پوری لہر ہٹ جائے گی۔

انہوں نے کہا کہ چھوٹے صوبے میں کمشنرچیف سیکرٹری اورآر پی او آئی جی ہوگا، چھوٹے صوبے میں بیوروکریٹک سرکل کم ہوجائے گا، چھوٹے صوبے میں ایڈیشنل بیوروکریسی نہیں لگے گی۔

4 صوبوں میں عوام کی ویلفیئر نظر نہیں آ رہی

چیئرمین پنجاب گروپ آف کالجز نے کہا کہ ہم عوام میں آگاہی لارہے ہیں، چاہتے ہیں عوام اپنے بھلے اور بُرے کو سمجھے، ہم نئے صوبے کو ہی انتظامی یونٹ کہہ رہے ہیں۔

میاں عامر محمود نے کہا کہ ہمارا اصل نعرہ پاکستان کے لوگوں کی ویلفیئر ہے، 25 کروڑ پاکستانی آگے بڑھنا چاہتے ہیں، ہمیں ان 4صوبوں میں عوام کی ویلفیئر ہوتی نظر نہیں آرہی، چاہتے ہیں پاکستان میں نئے صوبے ہوں، گورنمنٹ عوام کی دہلیز پرپہنچے۔

 امریکی قونصل جنرل سٹیٹسن سینڈرز نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ٹیکنالوجی کا استعمال کرتے ہوئے لوگوں کی زندگیاں بدل گئیں، پاکستان میں بھی ٹیکنالوجی کا استعمال ہو رہا ہے، سی پاکستان ایسا پلیٹ فارم ہے جہاں سٹوڈنٹس کو اپنا فیوچر بنانے کا موقع فراہم کیا جارہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ میرے لیے یہ بڑی خوشی کی بات ہے کہ میں لاہور میں ہوں، اس ایونٹ میں شرکت کر رہا ہوں، پنجاب سیف سٹی اتھارٹی میں امریکن ٹیکنالوجی کا استعمال کرتے ہوئے پنجاب کے لوگوں کو محفوظ بنایا جا رہا ہے، ہم امید کرتے ہیں کہ ایپل ہیڈ کوارٹر کا افس بھی پاکستان میں بنائیں گے۔

امریکی قونصل جنرل نے مزید کہا کہ نوجوان انٹرپرنیورز کے لیے یہ خوشخبری ہے کہ پاکستان امریکا ایجوکیشن ایکسچینج پروگرام کے تحت کام کر رہا ہے، پاکستان امریکا دوستی زندہ باد۔

چیئرمین ہائر ایجوکیشن کمیشن پروفیسر ڈاکٹر نیاز احمد نے کہا ہے کہ تعلیمی سیکٹر میں تیزی سے تبدیلی آرہی ہے، تعلیمی اداروں کا طلبا کی صلاحیتوں کو نکھارنے میں اہم کردارہے، ہائر ایجوکیشن اس وقت ترجیح ہونی چاہئے۔

پروفیسر نیاز احمد اختر نے کہا کہ پاکستان میں نوجوانوں کیلئے بے پناہ مواقع موجود ہیں، گزشتہ 5 سال میں نوجوان کی بڑی تعداد نے سکالرشپس حاصل کیے، پاکستانی ڈاکٹروں کی بڑی تعداد عالمی سطح پر خدمات انجام دے رہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہائرایجوکیشن سسٹم نوجوانوں کوتعلیمی مواقع اوراسکالرشپس فراہم کررہا ہے، نوجوانوں کیلئے پاکستان میں اب بھی مواقع موجود ہیں۔

اس موقع پر وزیر مملکت برائے تعلیم وجیہہ قمر نے کہا ہے کہ وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر ملکی ترقی کیلئے کوشاں ہیں، پاکستان ،سعودیہ اورترکیے میں مکہ دفاعی معاہدہ طے پایا۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان کے نوجوانوں میں بے صلاحیت موجود ہے، بیرون ملک کےسرمایہ کارپاکستان کارخ کررہے ہیں، پاکستان کسی بھی مشکل کا مقابلہ کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

ریکٹر سپیریئر یونیورسٹی پروفیسر ڈاکٹر سمیرا رحمان نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ نئے انتظامی یونٹس بہتر گورننس کے لیے ضروری ہیں، میرا صوبہ میرا نظام کیلئے عوام میں آگاہی مہم جاری ہے۔

پروفیسر ڈاکٹر سمیرا رحمان نے کہا کہ پاکستان کے نوجوانوں میں صلاحیت کی کمی نہیں، میاں عامر محمود پاکستان کی بہتری کیلئے جدوجہد کررہے ہیں۔

اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے اویس رؤف نے کہا کہ چھوٹے اورنئے صوبوں والی بات کرنا بہت مشکل تھا، میاں عامرمحمود کومبارکباد پیش کرتا ہوں۔

انہوں نے کہا کہ میاں صاحب نے کہا تھا یہ مہم تب ہی کامیاب ہوگی جب پنجاب نئے صوبوں کی بات کرے گا،پچھلے 80سال میں جو بھی تبدیلیاں آئیں ہم اس پربہت سی تقاریرکرسکتے ہیں۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

Comments / رائے دیں

Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.

Your comment will remain hidden until approved by admin.

Approved Comments

Loading comments...