حکومت عالی بگٹی کو گیس رائلٹی ادا ئیگی بارے فیصلہ چیلنج کریگی؟

 حکومت عالی بگٹی کو گیس رائلٹی ادا ئیگی بارے فیصلہ چیلنج کریگی؟

سندھ ہائیکورٹ نے OGDCLکوعالی بگٹی کو 78 کروڑ 90 لاکھ ادا کرنے حکم دیا وفاق کا موقف رہا ہے صوبائی حکومت یہ رقوم عوام پرخرچ کرنیکاقانونی اختیار رکھتی قبائلی رہنماؤں کو رائلٹی پر شدید تنقید ہوتی رہی ، کیونکہ چند ’’سرداروں‘‘کو تقویت ملی اکبر بگٹی کو رائلٹی دینے سے انکار ہی انکے وفاق کیساتھ تعلقات میں کشیدگی کی وجہ بنا تھا

اسلام آباد(دنیا رپورٹ)سندھ ہائیکورٹ کے آئینی بنچ نے آئل اینڈ گیس ڈیولپمنٹ کمپنی لمیٹڈ (او جی ڈی سی ایل) کو حکم دیا ہے کہ وہ بلوچستان کے سابق وزیراعلیٰ نواب اکبر بگٹی کے پوتے نواب عالی بگٹی کو گیس رائلٹی کی مد میں 789 ملین (78 کروڑ 90 لاکھ) روپے سے زائد کی بقایا رقم ادا کرے ۔ سندھ ہائیکورٹ کے آئینی بینچ نے یہ حکم ایک سنگل بنچ کے پرانے فیصلے کو کالعدم قرار دیتے ہوئے جاری کیا، جس نے اس دعوے کو رد کرتے ہوئے درخواست گزار کو نیا سکسیشن سرٹیفکیٹ حاصل کرنے کی ہدایت کی تھی۔ یہ درخواست عالی بگٹی کی جانب سے طویل عرصے سے زیر التوا رائلٹی کی ادائیگیوں کے لیے دائر کی گئی تھی۔

درخواست گزار کے وکیل کے مطابق او جی ڈی سی ایل نے زونگ خان بگٹی کے ساتھ گیس رائلٹی کی ادائیگی کا معاہدہ کیا تھا۔ 3 مارچ 1995 کو امریکہ کے شہر فلوریڈا میں زونگ خان بگٹی کے انتقال کے بعد بھی او جی ڈی سی ایل 2011 تک رائلٹی ادا کرتی رہی، جس کے بعد یہ ادائیگیاں بند کر دی گئیں۔ درخواست گزار نے 2011 سے 2016 کے عرصے کی غیر ادا شدہ رائلٹی کی وصولی کے لیے ہائیکورٹ سے رجوع کیا تھا، کیونکہ کمپنی نے 2016 میں فنڈز کی فراہمی مکمل طور پر روک دی تھی۔ آئینی بنچ نے سنگل بنچ کے حکم کو کالعدم قرار دیتے ہوئے درخواست گزار کے حق میں فیصلہ سنایا اور او جی ڈی سی ایل کو 789,092,099 روپے کی رقم کلیئر کرنے کی ہدایت کی۔

کئی حلقوں کی جانب سے سوال اٹھایا جارہا ہے کہ آیا وفاقی حکومت سندھ ہائیکورٹ کے اس فیصلے کو چیلنج کریگی ؟کیونکہ وفاقی حکومت کا موقف رہا ہے کہ ایسے فنڈز صوبائی حکومت کو دیے جانے چاہئیں، جو عوامی بہبود کے لیے ان رقوم کو خرچ کرنے کا مناسب اور قانونی اختیار رکھتی ہے ۔قبائلی رہنماؤں کو اس طرح کی رائلٹی کی ادائیگی پر شدید تنقید کی جاتی رہی ہے ، کیونکہ ایسے طریقوں سے صرف چند 'سرداروں' کے قبائلی نظام کو تقویت ملی ہے جبکہ بلوچستان کے پسماندہ علاقوں کے عام لوگ وفاقی حکومت کی اس فنڈنگ کے فوائد سے محروم رہے ۔ وفاقی حکومت کی جانب سے نواب اکبر بگٹی کو اس قسم کی رائلٹی دینے سے انکار ہی ان کے وفاق کے ساتھ تعلقات میں کشیدگی کی وجہ بنا تھا۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

Comments / رائے دیں

Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.

Your comment will remain hidden until approved by admin.

Approved Comments

Loading comments...