چینی پالیسی پر مفتاح اسماعیل اور عطا تارڑ آمنے سامنے
پہلے چینی برآمد، پھر مہنگی درآمد اور اب وہی دوبارہ برآمد:سابق وزیر خزانہ حقائق مسخ نہ کریں ،اضافی ذخیرے کے باعث برآمد کی :وفاقی وزیر اطلاعات
اسلام آباد (مانیٹرنگ سیل )چینی کی برآمد، درآمد اور دوبارہ برآمد کی حکومتی پالیسی پر سابق وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل اور وفاقی وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ کے درمیان لفظی تنازع شدت اختیار کرگیا ہے ، دونوں رہنماؤں نے ایک دوسرے کے مؤقف کو چیلنج کرتے ہوئے اپنے اپنے دعوئوں کو درست قرار دیا ہے ۔مفتاح اسماعیل نے پہلے اپنے بیان میں کہا تھا گزشتہ سال حکومت نے 7 لاکھ 50 ہزار ٹن چینی برآمد کرنے کی اجازت دی، جس کے نتیجے میں مقامی مارکیٹ میں چینی کی قیمت 50 روپے فی کلو بڑھ گئی۔ ان کے مطابق بعد ازاں حکومت نے نجی شعبے کے بجائے ٹریڈنگ کارپوریشن آف پاکستان کے ذریعے 3 لاکھ ٹن چینی درآمد کرنے کا فیصلہ کیا۔سابق وزیر خزانہ نے دعویٰ کیا کہ TCP نے عالمی مارکیٹ کی اُس وقت کی قیمت سے 40 ڈالر فی ٹن تک زیادہ قیمت پر چینی خریدی جبکہ درآمدی چینی کو سیلز ٹیکس اور ایکسائز ڈیوٹی سے استثنیٰ حاصل ہونے کے باوجود یہ مقامی مارکیٹ کی چینی سے مہنگی تھی۔
ان کے مطابق TCP، ایف بی آر اور انٹیلی جنس بیورو کے افسروں پر مشتمل حکومتی ٹیم نے چینی مقامی صنعت، ریٹیلرز، چین سٹورز اور بروکرز کو مارکیٹ سے زیادہ قیمت پر فروخت کرنے کے لیے دباؤ ڈالاجبکہ مقامی شوگر ملوں کو TCP کے ممکنہ خریداروں کو چینی فروخت نہ کرنے کی ہدایات دی گئیں۔مفتاح اسماعیل کا کہنا تھا اس کے باوجود تمام ذخیرہ فروخت نہ ہوسکا اور اب اضافی چینی کو عالمی مارکیٹ میں دوبارہ برآمد کرنا پڑ رہا ہے ، جس سے زرمبادلہ کا نقصان ہوگا۔ انہوں نے حکومتی پالیسی کو یوں بیان کیا کہ پہلے چینی برآمد کرکے قلت پیدا کی گئی، پھر درآمد کی گئی اور اب دوبارہ برآمد کی جا رہی ہے ۔مفتاح اسماعیل کے بیان پر ردعمل دیتے ہوئے وفاقی وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ نے کہا کہ ‘‘حقائق کو مسخ کرکے عوام کو گمراہ کرنے کی کوشش نہ کریں۔’’عطا تارڑ کے مطابق ریکارڈ کے تحت 2024 میں چینی کسی سبسڈی کے بغیر برآمد کی گئی کیونکہ ملک میں اضافی چینی موجود تھی۔
ان کا کہنا تھا گزشتہ سال گنے کی کم پیداوار کے باعث صارفین کے تحفظ اور قیمتوں میں توازن برقرار رکھنے کے لیے بروقت چینی درآمد کی گئی۔وزیر اطلاعات نے کہا کہ گزشتہ سال درآمد کی گئی چینی میں سے ایک لاکھ ٹن اضافی چینی اب دوبارہ برآمد کی جا رہی ہے اور یہ اقدام مارکیٹ کے حالات مستحکم ہونے کے بعد کیا جا رہا ہے ۔ ان کے بقول اس سے مارکیٹ، کاشت کار یا صارف پر کوئی منفی اثر نہیں پڑے گا۔عطا تارڑ نے مفتاح اسماعیل کو ایف بی آر کی کارروائیوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ شوگر انڈسٹری سے 60 ارب روپے اضافی ٹیکس وصول کیا گیا اور کسی کو استثنیٰ نہیں دیا گیا۔ اس جواب پر مفتاح اسماعیل نے دوبارہ ردعمل دیتے ہوئے اپنے پہلے مؤقف کا دفاع کیا اور کہا کہ ان کے اٹھائے گئے نکات کے حقائق حکومت کے لیے خود ہی جواب ہیں۔
انہوں نے کہا چینی کی قیمت میں 50 روپے فی کلو اضافے کے نتیجے میں، 18 فیصد سیلز ٹیکس کی شرح کے تحت ایف بی آر کو فی کلو 9 روپے اضافی ٹیکس حاصل ہوا۔ انہوں نے یہ بھی تسلیم کیا کہ حکومت نے چینی استعمال کرنے والی صنعت پر ایکسائز ٹیکس عائد کیا اور ایف بی آر کے ٹریک اینڈ ٹریس نظام سے شوگر انڈسٹری میں سیلز ٹیکس چوری کم ہوئی ہے ۔مفتاح اسماعیل نے کہا کہ حکومت کے اقدامات کے حقائق اتنے ‘‘شرمناک’’ ہیں کہ اپوزیشن کو انہیں مسخ کرنے کی ضرورت نہیں۔مفتاح اسماعیل نے ذاتی اندازِ گفتگو پر بھی عطا تارڑ کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ وہ پہلے انہیں ‘‘مفتاح بھائی’’ کہتے تھے اور اب ‘‘مسٹرمفتاح اسماعیل’’ کہہ رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا، ‘‘عطا بھائی، حکومتیں آتی جاتی رہتی ہیں، انسان کو اپنے رویے میں شائستگی نہیں چھوڑنی چاہیے ۔’’
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments