میر رضا کیس:جے آئی ٹی تشکیل دینے کی درخواست پرقانونی سوالات

میر رضا کیس:جے آئی ٹی تشکیل دینے  کی درخواست پرقانونی سوالات

کراچی (سٹاف رپورٹر)سندھ ہائیکورٹ نے میر رضا علی خان قتل کیس کی تحقیقات کے لیے جے آئی ٹی تشکیل دینے سے متعلق درخواست کے قابل سماعت ہونے کے اہم قانونی سوالات پر ایڈووکیٹ جنرل سندھ، پراسیکیوٹر جنرل سندھ اور ڈپٹی اٹارنی جنرل سے معاونت طلب کرلی، عدالت نے درخواست پر سماعت 31 اگست تک ملتوی کردی۔

 سندھ ہائیکورٹ کے دو رکنی بینچ نے میر رضا علی خان کے اہل خانہ کی جانب سے جے آئی ٹی کی تشکیل سے متعلق دائر  درخواست پر گزشتہ روز کی سماعت کا تحریری حکم نامہ جاری کردیا۔ تحریری حکم نامے میں عدالت نے اہم قانونی سوالات مرتب کرتے ہوئے استفسار کیا کہ کیا آئین کے آرٹیکل 199 کے تحت ہائیکورٹ کی آئینی حدود اختیار کو جے آئی ٹی تشکیل دینے کی ہدایت کے لیے استعمال کیا جاسکتا ہے ؟ عدالت نے یہ سوال بھی اٹھایا کہ کیا ہائیکورٹ آئین کے آرٹیکل 199 کے تحت ضابطہ فوجداری کے تحت جاری قانونی تفتیش اور دفعہ 173 کے تحت رپورٹ جمع کرانے کے عمل میں مداخلت، اس کی نگرانی یا اسے تبدیل کرسکتی ہے ؟ تحریری حکم نامے میں عدالت نے سندھ ٹربیونلز آف انکوائری آرڈیننس 1969 کا حوالہ دیتے ہوئے یہ بھی استفسار کیا کہ مذکورہ قانون کے تحت کسی گزٹ نوٹیفکیشن کی عدم موجودگی میں کیا عدالتی مداخلت کا کیس بنتا ہے ؟ تحریری حکم نامے کے مطابق سماعت کے دوران درخواست گزاروں کے وکیل جبران ناصر نے مؤقف اختیار کیا کہ میر رضا علی خان کیس کی موجودہ تحقیقات میں تاحال کسی ملزم کی شناخت نہیں ہوسکی، جبکہ پولیس کی جانب سے تفتیشی رپورٹ عدالت میں پیش کرنے کے لیے مزید مہلت بھی طلب کی گئی ہے ۔ وکیل نے عدالت سے استدعا کی کہ موجودہ حالات میں کیس کی آزادانہ اور جامع تحقیقات کے لیے جے آئی ٹی تشکیل دینے کا حکم دیا جائے ۔ عدالت نے مقدمے کے تفتیشی افسر اور مدعی مقدمہ کو نوٹس جاری کرتے ہوئے آئندہ سماعت پر جواب طلب کرلیا۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

Comments / رائے دیں

Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.

Your comment will remain hidden until approved by admin.

Approved Comments

Loading comments...