پاور پلانٹس کیلئے مہنگا درآمدی کوئلہ خرید کر صارفین سے اضافی وصولی کا انکشاف
اسلام آباد (اسلم لُڑکا)پاور ڈویژن نے صارفین کے لیے بجلی کی قیمتوں میں کمی کیلئے اہم قدم کے طور پر پاور پلانٹس کی درآمدی کوئلے کی خریداری میں غیر مؤثر طریقہ کار اور خامیوں کی نشاندہی کی اور اصلاحی اقدامات کیلئے پالیسی گائیڈ لائنز جاری کی گئی ہیں جن سے سالانہ 380 ملین روپے تک بچت ممکن ہو سکتی ہے۔
یہ انکشاف وفاقی وزیر توانائی اویس احمد لغاری کی زیرِ صدارت اعلیٰ سطح کے اجلاسوں کے دوران ہوا جس دوران حقیقی اعداد و شمار، معاہداتی انتظامات اور مارکیٹ کے طریقہ کار کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ تجزیے سے معلوم ہوا کہ مختلف پاور پلانٹس ایک ہی عالمی اشاریے (API-4 انڈیکس) کو مدنظر رکھتے ہوئے ایک ہی سپلائرز سے کوئلہ خرید رہے تھے لیکن انہیں حاصل رعایت میں نمایاں فرق تھا جو 0.25 امریکی ڈالر سے 7.12 امریکی ڈالر فی میٹرک ٹن تک تھا، ایک ہی سپلائر نے مختلف پاور پلانٹس کو الگ الگ رعایتیں فراہم کیں اور ایسے معاملات بھی سامنے آئے جہاں زیادہ رعایت دینے والے سپلائر کے ساتھ معاہدہ کے باوجود کم رعایت دینے والے سے کوئلہ خریدا جا رہا تھا۔ اس فرق سے ایندھن کی لاگت میں ہونے والا غیر ضروری اضافہ بالآخر بجلی کے ٹیرف کے ذریعے صارفین سے وصول کیا جاتا ہے ۔ اس مسئلے کے حل کے لیے پاور ڈویژن نے نیپرا کو پالیسی گائیڈ لائنز جاری کی ہیں۔
اصلاحات کے پہلے مرحلے کے طور پر پاور پلانٹس کے لیے لازم ہوگا کہ وہ سب سے زیادہ رعایت پیش کرنے والے اپنے معاہدہ شدہ سپلائرز سے کوئلہ خریدیں اور انہیں کم رعایت دینے والے سپلائر سے خریداری کی اجازت نہیں ہوگی۔ کوئلے کے پاور پلانٹس کی مجموعی پیداواری صلاحیت تقریباً 5,280 میگاواٹ ہے ، پورٹ قاسم، حب پاور اور ساہیوال کے 1,320 میگاواٹ کے تین بڑے پاور پلانٹس شامل ہیں، لکی اور جامشورو پاور پلانٹس بھی درآمدی کوئلہ استعمال کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ وفاقی وزیر توانائی اویس لغاری نے کہا کہ اس اقدام کا مقصد تجارتی امور میں مداخلت کرنا نہیں بلکہ یہ یقینی بنانا ہے کہ جہاں ایندھن کی لاگت بالآخر صارفین پر منتقل ہوتی ہے وہاں خریداری کا عمل مؤثر اور شفاف انداز میں انجام دیا جائے تاکہ عوامی مفاد کا تحفظ ممکن ہو سکے۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments