صلح کو ضمانت معاملے میں مدنظر رکھا جاسکتا:ہائیکورٹ
صلح سے جرم قابلِ راضی نامہ نہیں بن جاتا نہ ہی مقدمہ کی نوعیت تبدیل ہوتی
لاہور (کورٹ رپورٹر )لاہور ہائیکورٹ نے قرار دیا ہے کہ ایساجرم جس میں قانونی طور پر صلح نہیں ہوسکتی،اگر مدعی اور ملزم عدالت سے باہر باہمی رضامندی سے معاملہ طے کرلیں تو اس صلح کو ضمانت کے معاملے میں مدنظر رکھا جاسکتا ہے تاہم ایسی صلح سے جرم کی قانونی حیثیت تبدیل نہیں ہوتی۔جسٹس عثمان غنی راشد چیمہ نے اشفاق عرف اشتیاق کی قبل از گرفتاری ضمانت کی درخواست منظور کرتے ہوئے ملزم کی پہلے سے منظور شدہ عبوری ضمانت پکی کردی۔ عدالت نے ملزم کو ایک لاکھ کے مچلکوں اور اتنی ہی رقم کے ضامن کے عوض ضمانت پر رہا کرنے کا حکم دیدیا۔5صفحات پر مشتمل عدالتی فیصلے کے مطابق ملزم کیخلاف تھانہ سٹی ہارون آباد ضلع بہاولنگر میں دو مارچ دو ہزار چھبیس کو امانت میں خیانت مقدمہ کے مطابق ملزم اور اسکے ساتھی نے مدعی کی کار عارضی استعمال کیلئے لی اوردوسرے شخص کو فروخت کردی۔ مدعی وکیل کے ہمراہ پیش ہوا، بتایا کہ فریقین میں عدالت سے باہر معاملہ طے پاچکا ہے۔
مدعی نے ملزم کی ضمانت پکی ہونے پر بھی اعتراض نہیں کیا۔ عدالت نے قرار دیا کہ سرکاری وکیل کا مؤقف درست ہے کہ اس جرم میں قانونی طور پر راضی نامہ نہیں ہوسکتا تاہم فریقین میں رضاکارانہ صلح کو ضمانت معاملہ میں نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔ مدعی مرضی سے ملزم کو معاف کردے ، مقدمہ مزید چلانے میں دلچسپی نہ رکھے اور ضمانت پر اعتراض بھی نہ کرے تو یہ صورتحال ضمانت دیتے وقت عدالت کیلئے اہم پہلو ہوسکتی ہے ۔ ایسی صلح سے جرم قابلِ راضی نامہ نہیں بن جاتا اور نہ ہی مقدمہ کی قانونی نوعیت تبدیل ہوتی ہے تاہم ضمانت فیصلے میں فریقین کے درمیان صلح اور مدعی کا عدم اعتراض مدنظر رکھا جاسکتا ہے ۔ مقدمہ میں مدعی خود عدالت پیش ہوا، صلح بارے تصدیق کی اور ملزم کی ضمانت پر اعتراض نہیں کیا، اسلئے یہ عوامل ملزم کی عبوری قبل از گرفتاری ضمانت پکی کرنے کیلئے کافی ہیں۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments