دبئی کا کوئی پوسٹل کوڈ نہیں، پھر پارسل کیسے پہنچتا ہے ؟
دبئی(نیٹ نیوز)دبئی دنیا کے ان شہروں میں شامل ہے جہاں عام ڈاک اور پارسل کی ترسیل کے لیے علاقے کے حساب سے روایتی پوسٹل یا زِپ کوڈ استعمال نہیں کیا جاتا ۔
سوال یہ ہے کہ اگر پوسٹل کوڈ موجود نہیں تو خط یا پارسل صحیح جگہ تک کیسے پہنچتا ہے ؟دبئی سمیت پورے متحدہ عرب امارات میں ڈاک کی ترسیل کے لیے ایمریٹس پوسٹ کا نظام موجود ہے ۔ یہاں کسی علاقے کو پوسٹل کوڈ دینے کے بجائے وصول کرنے والے کے نام اور مکمل پتے کی تفصیلات کو اہمیت دی جاتی ہے ۔ اس میں عمارت کا نام یا نمبر، سڑک، فلیٹ یا یونٹ نمبر، امارت اور فون نمبر جیسی معلومات شامل ہوتی ہیں۔متحدہ عرب امارات میں پی او باکس بھی ڈاک وصول کرنے کا ایک اہم ذریعہ ہے ۔ رہائشی اور کاروباری ادارے پی او باکس کرائے پر لے سکتے ہیں، جہاں ان کے خطوط، پارسل اور دیگر ڈاک پہنچائی جاتی ہے ۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments