ایران جنگ ٹرمپ کے لیے سیاسی بوجھ بن گئی
امریکی عوام جنگ کے باعث مہنگائی ، ایندھن کی بڑھتی قیمتوں سے ناراض ٹرمپ اب ایران جنگ سے نکلنے کا کوئی آسان راستہ تلاش نہیں کر پا رہے جنگی اثرات وسط مدتی الیکشن میں ری پبلکن کیلئے نقصان دہ ثابت ہوسکتے :ماہرین
واشنگٹن (اے ایف پی)ایران کے خلاف جنگ، جسے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ابتدا میں ایک فوری فتح سمجھا تھا، اب ان کی دوسری صدارتی مدت کے لیے سیاسی بوجھ بنتی دکھائی دے رہی ہے ۔گزشتہ ہفتے وائٹ ہاؤس میں صحافیوں سے گفتگو کے دوران ٹرمپ نے اپنی تزئین و آرائش، ہیلی پیڈ اور گرینائٹ فرش کا بار بار ذکر کیا، مگر ایران کی جنگ کا تقریباً کوئی تذکرہ نہیں کیا۔پینٹاگون کے مطابق جنگ میں اب تک کم از کم 18 امریکی فوجی ہلاک اور 750 سے زائد زخمی ہوچکے ہیں، جبکہ ایران اور لبنان میں ہزاروں افراد مارے گئے ہیں۔امریکی عوام جنگ کے باعث مہنگائی اور ایندھن کی بڑھتی قیمتوں سے بھی ناراض ہیں۔ ایک رائٹرز/اِپسوس سروے کے مطابق 14 سے 17 اگست کے دوران ٹرمپ کی مقبولیت صرف 33 فیصد رہ گئی، جو ان کی موجودہ مدت صدارت کی کم ترین سطح ہے ۔ٹرمپ نے اپریل میں ایران کے ساتھ جنگ بندی کے بعد اسے ‘‘مکمل اور بھرپور فتح قرار دیا تھا، لیکن جنگ بندی ٹوٹنے اور ایران کے امریکی مطالبات تسلیم نہ کرنے کے بعد وہ فوجی دباؤ سے اقتصادی پابندیوں کی طرف منتقل ہوگئے ۔ماہرین کے مطابق ٹرمپ اب ایران جنگ سے نکلنے کا کوئی آسان راستہ تلاش نہیں کر پا رہے ۔ امریکی سیاسی ماہر ولیم گیلستن نے کہا کہ ٹوپی میں کوئی خرگوش نہیں، میرا خیال ہے ٹوپی خالی ہے ۔ یعنی کو ئی حیران کن حل نہیں ۔جنگ کے اثرات نومبر کے وسط مدتی انتخابات میں ری پبلکن پارٹی کے لیے نقصان دہ ثابت ہوسکتے ہیں اور ایوان نمائندگان میں اس کی اکثریت خطرے میں پڑ سکتی ہے ۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments