پنجاب اسمبلی :حکومت کو تیسرے روز بھی سُبکی کا سامنا کرنا پڑا
3 نشستوں میں سے کسی میں بھی بل پیش نہ ہو سکے ، کورم نشاندہی پرکارروائی متاثر سوالوں کے جواب نہ ملنے پرتنقید، نئے صوبوں پربحث کامطالبہ،لوڈشیڈنگ پر احتجاج
لاہور (سیاسی نمائندہ،دنیا نیوز،این این آئی)حکومت کو مسلسل تیسرے روز پنجاب اسمبلی میں سُبکی کا سامنا کرنا پڑا،45ویں اجلاس کی 3 نشستوں میں سے کسی میں بھی بل پیش نہ ہو سکے ۔ اپوزیشن سے کورم کی نشاندہی پرکارروائی متاثر ہوتی رہی، کورم پورا نہ ہونے پر اجلاس جمعرات دوپہر دو بجے تک ملتوی کردیا گیا۔ اجلاس سپیکر ملک احمد خان کی زیر صدارت ایک گھنٹہ 28 منٹ تاخیر سے شروع ہوا۔محکمہ خزانہ سے متعلق سوالات پرپارلیمانی سیکرٹری تیمور خان حکومتی رکن امجد جاوید کوتسلی بخش جواب نہ دے سکے ۔ حکومتی ارکان نے پارلیمانی سیکرٹری کو تنقید کانشانہ بنایا۔پیپلزپارٹی کی نرگس فیض نے پارلیمانی سیکرٹری پرتنقید کرتے سپیکر سے کہا سارے سوالات ملتوی کردیں کیونکہ وہ تیاری کرکے نہیں آئے ۔ احمد اقبال نے سوال اٹھایا پنجاب بینک پی اے سی کو تفصیلات دینے سے کیوں گریزاں ہے ، اجلاس بلایا جاتا ہے تو اسکانمائندہ نہیں آتا۔ یہ حکومت کا بینک ہے اور اس میں عوام کے ٹیکس کا پیسہ ہے ، کیا یہ بینک کمیٹی کو جوابدہ نہیں ؟ پارلیمانی سیکرٹری نے جواب دیا کہ انکے علم میں نہیں پنجاب بینک پی اے سی میں آتا ہے یا نہیں۔اجلاس میں بتایا گیا کہ پنجاب بینک کے صدر کی تنخواہ و مراعات 6اعشاریہ 619 ملین روپے ہے جبکہ پنجاب بینک کے ایک کروڑ سے زیادہ والے ڈیفالٹر زکی تعداد268ہے۔
سپیکر نے اپوزیشن رکن رانا شہباز کو تیز گام قرار دیدیااور کہا ایک تو وہ رانا شہباز کے ساؤنڈ سے پریشان ہیں، اوپر سے ہرکوئی تیز تیز بولتا ہے ۔ حکومتی رکن احسن رضا نے لیگی ارکان کے سوالات پر تنقید کی اور کہا یہ کتنی بد نصیبی ہے کہ بڑے بڑے مسائل ہیں مگر سب ایک ہی سوال کررہے ہیں۔لیو انکیشمنٹ ختم کرنے بارے سوال پر بھی پارلیمانی سیکرٹری تسلی بخش جواب نہ دے سکے ۔ سپیکر نے کہا یہ ہزاروں خاندانوں کا مسئلہ ہے ،تیاری کرکے پنشن، گریجویٹی اور لیو انکیشمنٹ بارے جواب دیا جائے ۔ حکومتی رکن ذوالفقار شاہ نے نئے صوبوں کا معاملہ اٹھا دیااور کہا یہ اہم مسئلہ ہے ، اس پر ہر جگہ بات چل رہی ہے ،تفصیلی بحث ہونی چاہیے ۔ اس پر پینل آف چیئرپرسن سمیع اللہ خان نے کہا نئے صوبوں پر حکومت اور اپوزیشن کو بزنس ایڈوائزری کمیٹی میں بات کرنا ہوگی، جمعرات کو کمیٹی میں اس پر بحث کا لائحہ عمل طے کیاجائیگا۔ احسن رضا نے غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ پر سخت احتجاج کرتے کہا وزیر پانی و بجلی بتائیں وہ کہاں ہیں، بھاری بل دینے والے عوام کو غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ بارے بتایا جائے ۔ لاہور، فیصل آباد، راولپنڈی ہو یا کوئی گاؤں، غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ نے زندگی اجیرن کر رکھی ہے ۔بعد ازاں تحریک انصاف کے رکن بریگیڈیر(ر)مشتاق نے کورم کی نشاندہی کردی۔ سمیع اللہ خان نے گنتی کا حکم دیا، کورم پورا نہ نکلا تو5منٹ گھنٹیاں بجانے پر بھی کورم مکمل نہ ہوسکا جس پراجلاس ملتوی کردیا گیا۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments