امریکی پابندیاں ایران گیس منصوبے میں رکاوٹ:وزیرتوانائی
اسلام آباد (اپنے رپورٹر سے ) سینیٹ میں وقفہ سوالات، توجہ دلاؤ نوٹسز اور قائمہ کمیٹیوں کی رپورٹس کے دوران پاک ایران گیس پائپ لائن، سمارٹ میٹرز، ادویات کی قیمتوں، جی 14/1 کی اراضی، بانی پی ٹی آئی کی صحت اور دیگر اہم امور پر حکومت کا مؤقف ایوان میں پیش کیا گیا۔
وفاقی وزیر توانائی علی پرویز ملک نے توجہ دلاؤ نوٹس کے جواب میں کہا کہ پاکستان کے مفاد میں پاک ایران گیس پائپ لائن کے مسئلے کا حل تلاش کرنے کی کوششیں جاری ہیں۔ امریکی پابندیوں کے باعث منصوبے پر خاطر خواہ پیش رفت نہیں ہو سکی، تاہم مسئلے کے حل کے لئے دوستانہ انداز میں کوششیں کی جا رہی ہیں۔ ایران نے منصوبے پر کافی کام کیا ، لیکن پاکستان پر عائد پابندیوں کے باعث عملی اقدامات نہیں کئے جا رہے ، انہوں نے کہا کہ وہ ریٹ اور دیگر معاملات پر بات نہیں کرنا چاہتے ۔قبل ازیں سینیٹر طلحہ محمود نے کہا کہ پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ 2006 میں شروع ہوا تھا اور اب 2026 آچکا ہے ، جبکہ پاکستان کو گیس کی قلت کا سامنا ہے ۔ منصوبہ مکمل ہونے سے ملک کو فائدہ ہوگا۔ انہوں نے سوال کیا کہ اگر ایران پر سے پابندیاں ختم ہوجائیں تو کیا پاکستان فوری طور پر پائپ لائن بچھانے کے لیے تیار ہے یا اس میں مزید کئی سال لگیں گے ۔وزارت توانائی نے ایوان کو بتایا کہ ملک بھر کی بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں میں مجموعی طور پر 21 لاکھ 25 ہزار 296 سمارٹ میٹرز نصب کیے جاچکے ہیں۔
لیسکو میں سب سے زیادہ 11 لاکھ 53 ہزار 556، گیپکو میں 3 لاکھ 48 ہزار 135، میپکو میں 2 لاکھ 29 ہزار 719، آئیسکو میں ایک لاکھ 19 ہزار 372 اور فیسکو میں ایک لاکھ 11 ہزار 948 سمارٹ میٹرز نصب کیے گئے ہیں۔ وفاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال نے ادویات کی قیمتوں سے متعلق توجہ دلاؤ نوٹس کے جواب میں بتایا کہ ادویات کی قیمتوں کا تعین چھ رکنی کمیٹی کرتی ہے ، جس کی منظوری وفاقی کابینہ دیتی ہے ۔ ادویات کا تقریباً 90 فیصد خام مال درآمد کیا جاتا ہے ، جبکہ چین کے ساتھ 300 ملین ڈالر کے معاہدے کیے گئے ہیں۔ پاکستانی ادویات 52 ممالک کو برآمد کی جا رہی ہیں۔ گزشتہ ماہ 35 ادویات کی قیمتیں مقرر کی گئیں جبکہ 52 کیسز کمیٹی نے حتمی کرکے کابینہ کو بھجوا د ئیے ہیں۔ یکم اکتوبر کو عالمی ادارہ صحت پاکستان کے ادویات کے شعبے کا جائزہ لے گا، جس کے بعد مزید عالمی منڈیوں تک رسائی کے امکانات پیدا ہوں گے ۔وفاقی وزیر ہاؤسنگ و تعمیرات میاں ریاض حسین پیرزادہ نے جی 14/1 کی زیر قبضہ اراضی سے متعلق بتایا کہ متاثرین اور تعمیر شدہ جائیدادوں کے مسائل حل ہونے کے بعد اراضی مکمل طور پر واگزار کرالی جائے گی۔
انہوں نے بتایا کہ 580 قانونی تعمیر شدہ جائیدادوں میں سے 419 کے مقدمات نمٹا کر معاوضے کے ایوارڈز جاری کئے جاچکے ہیں جبکہ معاوضہ ادا کرکے 199 تعمیرات مسمار کی جاچکی ہیں ، باقی 161 جائیدادوں کے مالکان نے تخمینہ لگانے کی اجازت نہیں دی۔ انہوں نے بتایا کہ جی 14/1 میں مجموعی طور پر ایک ہزار 129 تعمیر شدہ جائیدادیں ہیں، جن میں 580 قانونی اور 549 غیر قانونی تعمیرات شامل ہیں ، یہ تعمیرات ترقیاتی کاموں کے لیے اراضی کا قبضہ حاصل کرنے میں بڑی رکاوٹ ہیں، متعلقہ مسائل حل کرکے اراضی مکمل طور پر واگزار کرانے کی کوششیں جاری ہیں۔دریں اثنا ایوان بالا میں اسلام آباد میں امام بارگاہ اور آبادیوں کو منہدم کرنے سے متعلق قائمہ کمیٹی کی رپورٹ پیش کی گئی۔ پاکستان جنرل کاسمیٹکس بل 2026 اور اسلام آباد میٹرو بس سروس بل 2026 سے متعلق قائمہ کمیٹیوں کی رپورٹس بھی پیش ہوئیں، جبکہ مجموعہ ضابطہ فوجداری (ترمیمی) بل 2026 اور وفاقی دارالحکومت اسلام آباد آبی کناروں کے تحفظ بل 2024 سے متعلق رپورٹس بھی ایوان میں پیش کی گئیں۔ پاکستان جنرل کاسمیٹکس بل 2026 متعلقہ قائمہ کمیٹی کو بھجوا دیا گیا جبکہ پاکستان سائیکالوجیکل کونسل بل 2025 پر قائمہ کمیٹی کی رپورٹ پیش کرنے کی مدت میں 60 روز کی توسیع منظور کرلی گئی۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments