لاہور کے ہسپتالوں میں فائر سیفٹی انتظامات غیر تسلی بخش
فائر الارم، واٹر ہائیڈرنٹس اور سپرنکلر سسٹم کی فعالیت بھی جانچنے کی ضرورت ہیلتھ کیئر کمیشن کی پنجاب کے ہسپتالوں میں فائر سیفٹی قوانین پر عملدرآمد کی ہدایت
لاہور (محمد بلال چودھری )لاہور کے بڑے سرکاری ہسپتالوں میں فائر سیفٹی انتظامات پر اہم سوالات اٹھنے لگے ہیں۔ چلڈرن ہسپتال، میو ہسپتال، سروسز ہسپتال، جناح ہسپتال اور جنرل ہسپتال میں فائر سیفٹی اور ایمرجنسی ایگزٹ ڈرلز کے حوالے سے انتظامات تسلی بخش نہ ہونے کے انکشافات سامنے آئے ہیں جبکہ پنجاب کے دیگر ہسپتالوں کی حالت زار مزید ابتر ہے۔ ذرائع کے مطابق بیشتر ہسپتالوں میں فائر سیفٹی اور ایمرجنسی ایگزٹ ڈرلز ہوئے کئی سال گزر چکے ہیں، جبکہ بعض ہسپتالوں میں فائر ایکسٹنگوشرز کی موجودگی کے باوجود ان کی ورکنگ کنڈیشن پر سوالات موجود ہیں۔ فائر الارم، واٹر ہائیڈرنٹس اور سپرنکلر سسٹم کی فعالیت بھی جانچنے کی ضرورت ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ ہسپتالوں میں ایمرجنسی ایویکیوشن پلان، اسمبلی پوائنٹس اور ایمرجنسی کمانڈ سسٹم کے حوالے سے بھی صورتحال واضح نہیں۔ آئی سی یو، این آئی سی یو اور نرسری جیسے حساس وارڈز میں زیر علاج مریضوں کے فوری اور محفوظ انخلا کے لیے تربیت یافتہ عملے کی موجودگی انتہائی اہم قرار دی جا رہی ہے ۔ دوسری جانب پنجاب ہیلتھ کیئر کمیشن نے صوبے بھر کے سرکاری و نجی ہسپتالوں میں فائر سیفٹی قوانین پر مکمل عملدرآمد کی ہدایت کر دی ہے ۔ صوبائی وزیر صحت سپیشلائزڈ خواجہ سلمان رفیق کے مطابق ہسپتالوں میں ریسکیو 1122 کے تعاون سے باقاعدہ فائر سیفٹی ٹریننگ شروع کر دی گئی ہے ۔ ہسپتالوں میں سموک ڈیٹیکٹرز اور واٹر سپرنکلر سسٹم نصب کیے جا رہے ہیں۔ ہسپتالوں کے بجلی کے منظور شدہ لوڈ کی دوبارہ جانچ اور تازہ سرٹیفکیٹ حاصل کرنے کے ساتھ فائر الارم، ہائیڈرنٹس اور سپرنکلر سسٹم کی عملی جانچ بھی ضروری قرار دی گئی ہے۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments