قطری وزیراعظم تہران پہنچ گئے،کوئی مذاکرات نہیں ہورہے:امریکا

قطری  وزیراعظم  تہران  پہنچ  گئے،کوئی  مذاکرات  نہیں  ہورہے:امریکا

شیخ محمد کی عراقچی سے ملاقات، ہرمز انتظام کے مجوزہ منصوبے پر بات چیت، سعودیہ پر ڈرون حملہ،ہرمز میں آئل ٹینکر نشانہ جھکیں گے نہیں:پزشکیان، اقوام متحدہ کو خط میں امریکی پابندیاں دہشتگردی قرار،اثرات عالمی معیشت پر پڑ سکتے :بسیج فورس

تہران، واشنگٹن(نیوز ایجنسیاں، مانیٹرنگ ڈیسک)امریکا کے اتحادی قطر کے وزیر اعظم جمعرات کو تہران پہنچ گئے تاکہ جنگ کے خاتمے کیلئے سفارتی کوششوں کو دوبارہ   زندہ کیا جا سکے ، یہ دورہ ایسے وقت میں ہوا ہے جب امریکا اور ایران واشنگٹن کی جانب سے عائد کی جانے والی تازہ پابندیوں کے معاملے پر ایک دوسرے پر الزامات عائد کر رہے ہیں، جنہیں ایک ایرانی عہدیدار نے ہمہ گیر اقتصادی جنگ قرار دیا ہے ۔وائٹ ہاؤس کا کہنا ہے ایران اور امریکا کے درمیان کوئی مذاکرات نہیں ہورہے ، جبکہ سعودی عرب پر ایک بار پھر ڈرون حملہ ہوا ہے جسے ناکام بنانے کا دعویٰ کیا گیا ہے ،آبنائے ہرمز میں ایک اور آئل ٹینکر نشانہ بن گیا۔ ایران کی وزارت خارجہ کے ٹیلی گرام چینل کے مطابق قطر کے وزیر اعظم اور وزیر خارجہ شیخ محمد بن عبدالرحمن آل ثانی نے تہران میں ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی سے ملاقات کی۔قطر کی وزارت خارجہ نے کہا کہ دونوں رہنماؤں نے ایک مجوزہ مرحلہ وار منصوبے پر بات چیت کی، جس میں آبنائے ہرمز سے گزرنے کیلئے ایران اور عمان کے مشترکہ طور پر ایک عارضی بحری جہازرانی راہداری قائم کرنا اور آبی گزرگاہ سے بارودی سرنگیں صاف کرنے کا مشترکہ منصوبہ شامل ہے ۔

قطری وزارت کے مطابق دونوں عہدیداروں نے خطے کی تازہ صورتحال، کشیدگی کم کرنے کی کوششوں اور مذاکرات کیلئے سازگار حالات پیدا کرنے کے اقدامات کا بھی جائزہ لیا۔وائٹ ہاؤس کی پریس سیکرٹری کیرولین لیویٹ نے کہا کہ اس وقت امریکا اور ایران کے درمیان کوئی مذاکرات نہیں ہو رہے کیونکہ تہران نے ابھی تک بامعنی انداز میں مذاکرات کی میز پر آنے کا مظاہرہ نہیں کیاجبکہ ایران بارہا کہہ چکا ہے کہ اس نے مذاکرات کی میز کبھی نہیں چھوڑی۔کیرولین لیویٹ نے کہا ایران کے معاملے میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ اب بھی تمام آپشنز کھلے رکھے ہوئے ہیں۔انہوں نے کہا ہم نے ان کی فوجی طاقت تباہ کرنے کے لیے آپریشن ایپک فیوری کیا۔ اب ہم ان کی معیشت تباہ کرنے کے لیے آپریشن اکنامک آؤٹ کاسٹ کر رہے ہیں۔انہوں نے کہا یہ سلسلہ اس وقت تک جاری رہے گا جب تک صدر کو یہ محسوس نہ ہو کہ شاید وہ بامعنی انداز میں مذاکرات کی میز پر آ گئے ہیں۔ اگرچہ ایران پر براہِ راست فوجی حملے رک گئے ہیں، تاہم واشنگٹن نے اس ہفتے اضافی پابندیاں عائد کرکے اقتصادی دباؤ بڑھا دیا اور ایران کو اس کے تجارتی شراکت داروں سے کاٹ دینے کے منصوبوں کا اعلان کیا۔ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے امریکا کی جانب سے نئی پابندیوں اور اقتصادی دباؤ کی مہم کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکا اقتصادی دباؤ کے ذریعے بھی ایران سے کچھ حاصل نہیں کرسکے گا۔

ایران اقتصادی دباؤ کے سامنے ڈٹا رہے گا، جیسے اب تک ڈٹا رہا ہے اور آئندہ بھی ڈٹا رہے گا۔ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے نئی امریکی پابندیوں کو ریاستی اور معاشی دہشت گردی کا اقدام قرار دیتے ہوئے اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل، سلامتی کونسل اور تمام رکن ممالک کو خط لکھ دیا۔خط میں کہا گیا ہے کہ پابندیاں جان بوجھ کر شہریوں کو نقصان پہنچاتی ہیں، کیونکہ ان کے باعث خوراک، ادویات، طبی آلات، توانائی اور دیگر بنیادی ضروریات تک رسائی محدود ہوتی ہے ، جو زندگی، صحت، خوراک اور مناسب معیارِ زندگی سمیت بنیادی حقوق کی خلاف ورزی ہے ۔ایرانی پارلیمنٹ کے سپیکر باقر قالیباف نے ان پابندیوں کو ہمہ گیر اقتصادی جنگ قرار دیتے ہوئے اس کے مقابلے کے لیے قومی اتحاد پر زور دیا اور خبردار کیا کہ اندرونی اختلاف بالکل وہی چیز ہے جو دشمن چاہتا ہے ۔قالیباف نے امریکا کے ساتھ مذاکرات کا دفاع کرتے ہوئے کہا ہے کہ مذاکرات پسپائی کی علامت نہیں بلکہ قومی مفادات کے تحفظ کی صورت میں مزاحمت کا حصہ ہیں۔ایرانی پارلیمنٹ کی قومی سلامتی کمیٹی کے سربراہ ابراہیم عزیزی نے کہا کہ پابندیاں ایک غیر انسانی اور معاندانہ اقدام ہیں، تاہم ان کے بقول اب ان کی تاثیر ختم ہو چکی ہے ۔

تہران 1979 کے اسلامی انقلاب کے بعد سے امریکا کی مختلف نوعیت کی پابندیوں کا سامنا کرتا آ رہا ہے ۔ایران کی بسیج فورس کے سربراہ حسین طائب نے خبردار کیا کہ ایران کی معیشت کو متاثر کرنے کی کسی بھی کوشش کے اثرات امریکی اور اسرائیل سمیت عالمی معیشت پر بھی پڑ سکتے ہیں۔ایرانی پاسداران انقلاب کے ترجمان بریگیڈیئر جنرل حسین محبی نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران کے ساتھ جنگ کے بعد امریکا کو سٹریٹجک ہتھیاروں کے ذخائر میں کمی سمیت متعدد اہم فوجی اور معاشی دباؤ کا سامنا ہے ۔ایران کے پاسداران انقلاب نے بدھ کو کہا تھا کہ ایران اور عمان آبنائے ہرمز اور اس سے حاصل ہونے والی آمدنی کی تقسیم کے طریقۂ کار پر متفق ہو گئے ہیں، تاہم بعد میں ایک اعلیٰ ایرانی ذریعے نے کہا کہ دونوں ممالک اب بھی معاہدے کی تفصیلات طے کر رہے ہیں۔

ایران اور عمان کے درمیان آبنائے ہرمز سے متعلق بات چیت کے دوران عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں کمی دیکھی گئی ہے ،عالمی مارکیٹ میں برطانوی خام تیل کی قیمت میں 2.73 ڈالر فی بیرل کی کمی ہوئی جس کے بعد برطانوی خام تیل کی قیمت 85.85 ڈالر فی بیرل ہوگئی، امریکی خام تیل کی قیمت بھی 2.21 ڈالر کمی کے بعد 80.15 ڈالر فی بیرل ہوگئی۔برطانوی میری ٹائم ٹریڈ آپریشنز کے مطابق آبنائے ہرمز میں ایک آئل ٹینکر کو نامعلوم پروجیکٹائل نے نشانہ بنایا جس کے نتیجے میں جہاز میں آگ بھڑک اٹھی،تاہم آگ پر قابو پالیا گیا ہے اور ٹینکر کے تمام عملے کو محفوظ قرار دیا گیا ہے ۔سعودی عرب کے وسیع تر ینبع کے علاقے میں یونانی فوجی اہلکاروں کے زیر استعمال فضائی دفاعی نظام نے ڈرونز کے ایک گروپ کو روک لیا،یونانی سکیورٹی ذرائع نے بتایا کہ سعودی عرب میں تعینات یونانی فوجی اہلکاروں نے جمعرات کو ڈرونز کے ایک جھنڈ کے خلاف کارروائی کی،یونانی فوج کے زیر استعمال پیٹریاٹ فضائی دفاعی نظام نے ڈرونز کو نشانہ بنانے کے لیے تین میزائل فائر کیے ۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

Comments / رائے دیں

Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.

Your comment will remain hidden until approved by admin.

Approved Comments

Loading comments...