ہزاروں مسلمانوں کا قاتل ،بوسنیا کا قصاب ،مرگیا

ہزاروں  مسلمانوں  کا  قاتل ،بوسنیا  کا  قصاب ،مرگیا

ملاڈیچ دوسری جنگ عظیم کے بعد یورپ میں بدترین خونریزی کا مجرم تھا نسل کشی اور انسانیت کے خلاف جرائم کے الزام میں عمر قید کی سزاہوئی تھی

بلغراد (اے ایف پی) 1995 کے سربرینیتسا قتل عام میں کردار کے باعث ’’بوسنیا کا قصاب‘‘ کہلانے والے بوسنیائی سرب فوج کے سابق سربراہ راتکو ملاڈیچ انتقال کرگئے ۔ ملاڈیچ گزشتہ چند ماہ کے دوران کئی بار فالج کا شکار ہوئے تھے ۔ وہ دی ہیگ میں نسل کشی، جنگی جرائم اور انسانیت کے خلاف جرائم کے الزام میں عمر قید کی  سزا کاٹ رہے تھے ۔ ان کے زیرنگرانی سربرینیتسا میں ہونے والا قتل عام دوسری جنگ عظیم کے بعد یورپ میں خونریزی کا بدترین واقعہ قرار دیا جاتا ہے ۔سربیا کے سرکاری حکام اور ملاڈیچ کے اہل خانہ نے ان کی بگڑتی ہوئی صحت کے باعث رہائی کی اپیل کی تھی، تاہم دی ہیگ کی عدالت نے یہ درخواستیں مسترد کردی تھیں۔

سابق یوگوسلاویہ میں کمیونزم کے خاتمے کے بعد جب خطہ خونریز تنازع کی لپیٹ میں آیا تو ملاڈیچ اس ظالمانہ تین رکنی قیادت کا عسکری چہرہ تھے ۔ سیاسی محاذ پر سابق یوگوسلاوی صدر سلوبودان میلوسووچ اور سابق بوسنیائی سرب رہنما رادوان کارادزچ ان کے ہمراہ تھے ۔1992 سے 1995 تک جاری رہنے والی جنگ میں تقریباً ایک لاکھ افراد مارے گئے اور 22 لاکھ بے گھر ہوئے ۔اس جنگ کا سب سے بدنام زمانہ سانحہ سربرینیتسا میں پیش آیا، جہاں ملاڈیچ کی کمان میں سرب فورسز نے تقریباً 8 ہزار بوسنیائی مسلمان مردوں اور لڑکوں کو شہید کردیا۔ وہ اس علاقے میں پناہ لیے ہوئے تھے جسے اقوام متحدہ کے زیر تحفظ محفوظ علاقہ قرار دیا گیا تھا۔

 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

Comments / رائے دیں

Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.

Your comment will remain hidden until approved by admin.

Approved Comments

Loading comments...