جوڈیشل کمیشن کا معلومات دینے والے کو 1 لاکھ انعام کا اعلان

جوڈیشل کمیشن کا معلومات دینے والے کو 1 لاکھ انعام کا اعلان

میررضا کیس پرکمیشن کی کارروائی عوام کے سامنے ہوگی، کوئی بات چھپائی نہیں جائیگی براہ راست تفتیش نہیں، تحقیقات میں نقائص و دیگر حقائق سامنے لائینگے ،جسٹس عمر سیال

کراچی (این این آئی) میر رضا قتل کیس کی تحقیقات کے لیے سندھ ہائیکورٹ کے جسٹس عمر سیال پر مشتمل جوڈیشل کمیشن نے کارروائی کا آغاز کرتے ہوئے کیس سے متعلق اہم معلومات فراہم کرنے والے شخص کے لیے ایک لاکھ روپے انعام کا اعلان کردیا، جبکہ سندھ حکومتکو ہدایت کی گئی ہے کہ پولیس افسران، متعلقہ ڈاکٹرز، گواہوں کے بیانات، میڈیکل رپورٹس اور کیس سے متعلق تمام اصل دستاویزات کمیشن کے سامنے پیش کی جائیں۔ جوڈیشل کمیشن کے چیئرمین جسٹس عمر سیال نے واضح کیا کہ کمیشن کی کارروائی شفاف اور عوام کے سامنے ہوگی اور کوئی بات چھپائی نہیں جائے گی،جو شخص چاہے کمیشن میں آکر کارروائی دیکھ سکتا ہے ، کمیشن کے پاس تحقیقات مکمل کرنے کے لیے 30 روز کا وقت ہے اور اس دوران حقائق سامنے لانے کی ہر ممکن کوشش کی جائے گی۔جسٹس عمر سیال نے میر رضا کے اہلخانہ سے اظہار تعزیت کرتے ہوئے کہا کہ بہیمانہ طریقے سے ان سے ان کا بچہ چھینا گیا، اہلخانہ کی تکلیف کا احساس ہے ۔ ان کا کہنا تھا وہ گزشتہ 10 برس سے قتل کے مقدمات سن رہے ہیں اور سمجھتے ہیں اہلخانہ کو اس کیس کے حوالے سے واضح جواب اور انجام درکار ہے۔

انہوں نے واضح کیا انکوائری اور انویسٹی گیشن میں فرق ہوتا ہے ، جوڈیشل کمیشن براہ راست کیس کی تفتیش نہیں کرے گا بلکہ اپنے طے شدہ دائرہ کار کے مطابق پولیس کی کارکردگی، تحقیقات میں موجود نقائص، غفلت اور دیگر معاملات کا جائزہ لیتے ہوئے حقائق سامنے لائے گا، قاتلوں کی گرفتاری اور مقدمے کا چالان عدالت میں پیش کرنا پولیس کی ذمہ داری ہے ۔ انہوں نے کہا یہ کمیشن کسی روایتی کمیشن کی طرح کارروائی نہیں کرے گا، کسی سے خوفزدہ ہوئے بغیر کام کیا جائے گا اور کمیشن کا مقصد حقائق سامنے لانا، شفافیت کو یقینی بنانا اور عوام کا اداروں پر اعتماد بحال کرنا ہے ۔ انہوں نے کہا یہ معاملہ صرف میر رضا کا نہیں بلکہ ان تمام لوگوں کا ہے جو عزت کے ساتھ زندگی گزارنا چاہتے ہیں، کوشش ہے آئندہ کسی اور میر رضا کے ساتھ ایسا واقعہ پیش نہ آئے ۔میر رضا کے والد میر حسین نے کمیشن پر اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ انہیں پولیس کی انویسٹی گیشن پر اعتماد نہیں تاہم جوڈیشل کمیشن کے چیئرمین پر اعتماد ہے ۔ سماعت کے دوران میر رضا کی والدہ اور ہمشیرہ بھی کمیشن کے روبرو پیش ہوئیں جبکہ اہلخانہ کے وکیل جبران ناصر ایڈووکیٹ نے کیس سے متعلق مختلف امور کمیشن کے سامنے رکھے۔

جوڈیشل کمیشن نے کیس سے متعلق اہم معلومات رکھنے والے افراد سے رابطے کے لیے اردو، انگریزی اور سندھی اخبارات میں اشتہار شائع کرانے کا فیصلہ کیا۔ جسٹس عمر سیال نے سندھ حکومت کو ہدایت کی کہ ایسی معلومات جو کیس کے حقائق سامنے لانے میں معاون ثابت ہوسکتی ہیں، فراہم کرنے والے شخص کے لیے ایک لاکھ روپے انعام مقرر کیا جائے ۔ کمیشن کی جانب سے سرکاری ای میل اور واٹس ایپ نمبر بھی جاری کیا جائے گا تاکہ شہری براہ راست معلومات فراہم کرسکیں۔کمیشن نے اس مقام پر بھی نوٹس چسپاں کرنے کی ہدایت کی جہاں میر رضا کی لاش ملی تھی تاکہ کسی شخص کے پاس واقعہ سے متعلق معلومات ہوں تو وہ کمیشن سے رابطہ کرسکے ۔میر رضا کے والد کے وکیل جبران ناصر نے کمیشن کو کیس کی ٹائم لائن سے آگاہ کیا۔ جبران ناصر نے کمیشن کو بتایا کہ لاش ملنے کے مقام کی سی سی ٹی وی فوٹیج اہلخانہ کو دکھائی گئی تاہم اس سے پہلے کی مکمل فوٹیج فراہم نہیں کی گئی۔جوڈیشل کمیشن نے میر رضا کی لاش ملنے کے مقام پر سب سے پہلے پہنچنے والے پولیس اہلکاروں کو نوٹس جاری کرتے ہوئے طلب کرلیا۔

لاش سب سے پہلے دیکھنے والے نرسری کے ملازمین یاسر اور قیصر، لاش منتقل کرنے والے ایمبولینس ڈرائیورز محسن اور جاوید جبکہ پوسٹ مارٹم کرنے والے ایم ایل او ڈاکٹر اسامہ شیخ کو بھی کمیشن کے سامنے پیش ہونے کی ہدایت کی گئی۔ کمیشن نے ایدھی فاؤنڈیشن کے رضاکاروں اور متعلقہ پولیس اہلکاروں کے بیانات بھی قلمبند کرنے کا فیصلہ کیا ہے ۔ تفتیشی افسر ڈی ایس پی سراج لاشاری کو بھی کمیشن کی معاونت کے لیے طلب کرنے کی ہدایت کی گئی ہے ۔کمیشن نے سندھ حکومت سے کیس سے متعلق تمام دستیاب شواہد اور دستاویزات بھی طلب کرلی ہیں۔جبران ناصر نے کمیشن کو بتایا اہلخانہ کی جانب سے سابق تحقیقاتی ٹیم کی کارکردگی پر تحفظات ہیں۔ جوڈیشل کمیشن کی کارروائی کے بعد جبران ناصر نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے فیروز آباد پولیس کی جانب سے میر رضا کے انصاف کے لیے احتجاج کرنے والے نوجوانوں کے خلاف مقدمات درج کیے جانے کی شدید مذمت کی۔ انہوں نے کہا نوجوان گزشتہ کئی روز سے میر رضا کے انصاف اور قانون کی بالادستی کے لیے احتجاج کر رہے ہیں لیکن انہیں ہی مقدمات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے ۔جبران ناصر کا کہنا تھا میر رضا کے والدین کے لیے یہ محض ایک مقدمہ نہیں بلکہ ان کا بیٹا ہے ، وہ انصاف کے حصول تک جدوجہد جاری رکھیں گے۔

انہوں نے احتجاج کرنے والے نوجوانوں کو قانونی معاونت فراہم کرنے اور ان کی ضمانتوں کے لیے وکلا کی جانب سے کردار ادا کرنے کا بھی اعلان کیا۔انہوں نے الزام عائد کیا کہ میر رضا کے معاملے کو ابتدائی طور پر دبانے کی کوشش کی گئی اور متعلقہ پولیس افسران کے خلاف تاحال کوئی مؤثر کارروائی نہیں ہوئی، جبکہ احتجاج کرنے والے عام شہریوں کے خلاف مقدمات درج کیے جارہے ہیں۔انہوں نے کہا میر رضا کے قتل کو 30 روز گزرنے کے باوجود ملزمان کا مؤثر تعاقب نہیں کیا جاسکا، تاہم جوڈیشل کمیشن نے واضح کردیا ہے کہ اس کی کارروائی عوام کے لیے کھلی ہوگی اور کمیشن براہ راست تفتیش کے بجائے حقائق اور پولیس کی کارکردگی کا جائزہ لے گا۔دریں اثنا محکمہ داخلہ سندھ نے میر رضا قتل کیس کی تحقیقات کے لیے قائم جوڈیشل کمیشن کے ارکان اور عملے کی تعیناتیوں کا نوٹیفکیشن بھی جاری کردیا ہے ۔ اجلاس کے اختتام پر میر رضا کی مغفرت کے لیے دعا بھی کی گئی، جبکہ کیس کی مزید سماعت یکم ستمبر تک ملتوی کردی گئی۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

Comments / رائے دیں

Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.

Your comment will remain hidden until approved by admin.

Approved Comments

Loading comments...