شدید گرمی میں بجلی کی طویل بندش ، پنجاب اسمبلی میں غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ کیخلاف متفقہ قرار داد منظور

 شدید گرمی میں بجلی کی طویل بندش ، پنجاب اسمبلی میں غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ  کیخلاف متفقہ قرار داد منظور

لوڈمینجمنٹ کے نام پر 1گھنٹے سے 30منٹ تک وقفے وقفے سے بجلی بند،ہائی لاسز فیڈرز پر 2سے 6گھنٹے تک سپلائی معطل،ٹرانسفارمر خراب ہونیکی شکایات میں اضافہ لوڈشیڈنگ ضروری ہے تو سب پر لاگو کریں،پنجاب اور وفاق سے حکومتی رکن کامطالبہ ، بارڈر ملٹری پولیس کو پنجاب پولیس کے ماتحت نہ کر نے کی قرارداد بھی منظور

لاہور(اپنے کامرس رپورٹر سے )شدید گرمی اور حبس میں بھی لوڈشیڈنگ جاری، لیسکو ریجن میں شام ہوتے ہی بجلی کی غیر اعلانیہ و جبری لوڈشیڈنگ نے رات کو شہریوں کی  نیندیں اڑا دیں۔تفصیلات کے مطابق لیسکو ریجن کے مختلف علاقوں میں لوڈمینجمنٹ کے نام سے 1 گھنٹے سے 30 منٹ تک وقفے وقفے سے بجلی کی جبری لوڈشیڈنگ کا سلسلہ جاری ہے ،ہائی لاسز فیڈرز پر 2 سے 6 گھنٹے تک بجلی بند کی جارہی ہے ،شام اور رات کے اوقات میں ٹرپنگ نے پریشانی میں مزید اضافہ کردیا ،گنجان آباد علاقوں میں تکنیکی خرابیوں اور ٹرانسفارمر خراب ہونے کی شکایات میں ہوشربااضافہ ہو چکا ہے ۔ صارفین کے مطابق رات بھر لوڈشیڈنگ کے باعث بزرگ، بچے اور خواتین شدید پریشانی کا شکار ہیں ۔ذرائع کا کہنا ہے کہ ایل این جی سپلائی متاثر ہونے کے باعث گیس پر چلنے والے پاور پلانٹس سے بجلی کی پیداوار میں کمی ہوئی جس سے غیر اعلانیہ اور جبری لوڈشیڈنگ ہو رہی ہے۔

لاہور(سیاسی نمائندہ)پنجاب اسمبلی نے بجلی کی غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ کے خلاف حکومتی رکن کی قرارداد متفقہ طور پر منظور کرلی،اجلاس سپیکر پنجاب اسمبلی ملک محمد احمد خان کی زیر صدارت دو گھنٹے 21 منٹ کی تاخیر سے شروع ہوا،حکومتی رکن احسن رضا خان نے آؤٹ آف ٹرن قرار داد پیش کی، قرارداد میں کہا گیا کہ پنجاب میں بجلی کی لوڈشیڈنگ شدید ہوچکی ہے ، ایک جانب بجلی کی لوڈشیڈنگ ہے تو دوسری جانب ایک طبقے کو اس سے استثنیٰ دیا گیا ہے ، جس پر پنجاب کی عوام شدید تشویش کا شکار ہے ،قرارداد میں کہا گیا کہ یہ ایوان مطالبہ کرتا ہے کہ اگر لوڈشیڈنگ ضروری ہے تو اس کا شیڈول جاری ہونا چاہیے اور لوڈشیڈنگ سب پر ایک جیسی لاگو ہونی چاہیے ، غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ کے باعث عوام کے کاروبار بری طرح متاثر ہورہے ہیں۔ قرارداد میں پنجاب اور وفاق سے مطالبہ کیا گیا کہ غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ بند کی جائے۔

پنجاب اسمبلی نے قرارداد متفقہ طور پر منظور کر لی، پنجاب اسمبلی نے بارڈر ملٹری پولیس کو پنجاب پولیس کے ماتحت نہ کرنے کے حوالے سے بھی متفقہ طور پر قرارداد منظور کرلی، یہ قرارداد بھی آؤٹ آف ٹرن لی گئی، جسے حکومتی رکن احمد خان لغاری نے ایوان میں پیش کیا۔قرارداد کے متن میں کہا گیا کہ بارڈر ملٹری پولیس نے ڈیرہ غازی خان اور راجن پور کے قبائلی و سرحدی علاقوں میں قیام پاکستان سے پہلے ایک اہم فورس کے طور پر کام کیا، ایسی غیر مصدقہ اطلاعات سامنے آئی ہیں کہ بارڈر ملٹری پولیس کے موجودہ نظام یا کمانڈ کو تبدیل کر کے اسے پنجاب پولیس میں شامل کرنے کی تجویز زیر غور ہے ، اس اقدام سے قبائلی علاقوں کا موجودہ توازن متاثر ہوسکتا ہے ۔ قرارداد میں کہا گیا کہ قبائلی علاقوں کے نظام میں تبدیلی سے قبل مشاورت ناگزیر ہے ، حکومت مسلسل پانچویں روز کورم پورا کرنے میں ناکام رہی، جس کے بعد اجلاس پیر کی دوپہر دو بجے تک ملتوی کردیا گیا۔

 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

Comments / رائے دیں

Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.

Your comment will remain hidden until approved by admin.

Approved Comments

Loading comments...