سندھ حکومت کا خیبر پختونخوا کیلئے ایک ارب فنڈز کا تحفہ
ڈی آئی خان میں ہیلتھ منصوبے کیلئے 40 کنال اراضی خرید لی، فیصل کنڈی پختونخوا میں بدامنی اور کرپشن عروج پر ہے ، گورنرکی روزنامہ دنیا سے گفتگو
اسلام آباد (سہیل خان)گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے کہا کہ سندھ حکومت نے خیبر پختونخوا کے لیے ایک ارب روپے کے فنڈز کا تحفہ دیا ہے ، اس فنڈز سے ڈیر اسماعیل خان میں منصوبہ جات جس میں ہیلتھ شامل ہے کا انتخاب کیا گیا ہے ، فنڈز سے ڈیرہ اسماعیل خان میں مختلف منصوبے شروع کئے جائیں گے ، جن میں صحت کا منصوبہ بھی شامل ہے ،منصوبے کا افتتاح چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری کریں گے ۔ گورنر خیبر پختونخوا نے اس سلسلے میں بلاول سے رابطہ کیا تھا اور انہیں بتایا تھا کہ خیبر پختونخوا حکومت کی جانب سے ڈیرہ اسماعیل خان کے لئے کوئی فنڈز فراہم نہیں کیے جا رہے ۔گزشتہ روز سینیٹر طلحہ محمود کی رہائش گاہ پر ملاقات کے دوران روزنامہ ‘‘دنیا’’سے گفتگو کرتے ہوئے فیصل کریم کنڈی نے کہا کہ خیبر پختونخوا میں انتہائی مخدوش حالات ہیں اور پولیس غیر محفوظ ہو کر رہ گئی ، انہوں نے کہا کہ کرپشن، کرپشن سنتے ہیں، لیکن خیبر پختونخوا میں کرپشن کی انتہا ہے ۔ جب بڑے بڑے منصوبوں میں بدعنوانیوں کے انکشافات ہوتے ہیں تو ان کی تحقیقات کیوں رک جاتی ہیں؟گورنر نے کہا کہ اگرچہ وہ وفاق کے نمائندے ہیں، تاہم خیبر پختونخوا کے بدامنی، دہشت گردی اور کرپشن سے متعلق حالات پر خاموش نہیں رہ سکتے ، وہ پارٹی قیادت کو مسلسل آگاہ کرتے رہتے ہیں اور جس اعلیٰ فورم پر بات کرنے کا موقع ملتا ہے۔
وہاں صوبے کے حالات سے آگاہ کرتے ہیں ، جاری فنڈز سے خیبر پختونخوا کے انتہائی پسماندہ ضلع ڈیرہ اسماعیل خان میں منصوبے کیلئے سندھ حکومت نے 40 کنال اراضی خرید لی ہے جبکہ ٹینڈر بھی جاری کر دیا گیا فیصل کنڈی نے بتایا کہ ڈیرہ اسماعیل خان کے فضائی اڈے کی اپ گریڈیشن کا منصوبہ بھی منظوری کے حتمی مراحل میں ہے ۔ زمین کا انتخاب کر لیا گیا ہے اور جلد یہاں پر پروازیں شروع ہو جائیں گی۔ ایوی ایشن حکام نے علاقے کا دورہ کرکے سروے بھی کیا تھا کہ یہاں مسافروں کی کتنی تعداد موجود ہے ۔ انہوں نے کہا وزارت دفاع اور سول ایوی ایشن حکام کے درمیان اس منصوبے پر اتفاق ہو چکاہے وزیر دفاع خواجہ آصف جلد اس حوالے سے اعلان کریں گے ۔ یہ خیبر پختونخوا کے عوام کے لیے بڑی خوشخبری ہوگی، کیونکہ صوبے میں ترقیاتی منصوبے ناپید ہیں، البتہ ہنگاموں، ریلیوں اور احتجاج کی آوازیں ضرور سنائی دیتی ہیں ، فیصل کریم کنڈی نے پاکستان پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) کی قیادت کے درمیان 8 فروری 2024 کے عام انتخابات کے بعد طے پانے والے معاہدے کا بھی ذکر کیا۔ انہوں نے کہا اگرچہ معاہدے کی ایک جانب سے تصدیق نہیں کی جا رہی، تاہم یہ بتایا جا رہا ہے کہ جب صوبوں، بالخصوص پنجاب میں اعلیٰ سطح پر بیوروکریسی کے تقرر و تبادلوں کا مرحلہ آئے گا تو پیپلز پارٹی کو اعتماد میں لیا جائے گا۔ ان کے مطابق اس حد تک معاہدے کی تصدیق کی جا رہی ہے ۔ایک اور سوال کے جواب میں گورنر پختونخوا نے کہا کہ سپیکر قومی اسمبلی، چیئرمین سینیٹ اور دیگر آئینی عہدوں میں تبدیلی کی افواہیں گردش کر رہی ہیں، تاہم پیپلز پارٹی کی قیادت کی جانب سے کسی بھی معاہدے کی تصدیق نہیں کی جا رہی ۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments