کاروباری اوقات بتدریج بحال کئے جائیں : سینیٹ کمیٹی ، ایف بی آر افسران کی دوہری شہریت کی فہرست طلب

 کاروباری اوقات بتدریج بحال کئے جائیں : سینیٹ کمیٹی ، ایف بی آر افسران کی دوہری شہریت کی فہرست طلب

کراچی، لاہور میں کیمپ آفس قائم، فنگر پرنٹس کی تصدیق نہ ہونے پر چہرے کی شناخت ٹیکنالوجی متعارف کر نیکی سفارش ای پی زیڈز، ایس ای زیڈز ختم کرنے کے معاملے پر آئی ایم ایف سے مذاکرات کریں:ذیلی کمیٹی

اسلام آباد (سید قیصر شاہ) سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ و محصولات کی ذیلی کمیٹی نے ایف بی آر افسران کی دوہری شہریت اور مستقل غیر ملکی رہائش رکھنے والے افسران کی فہرست طلب کرلی، جبکہ معمول کے کاروباری اوقات بتدریج بحال کرنے کی سفارش کی ہے ۔ کمیٹی نے کراچی اور لاہور میں ایف بی آر کے کیمپ آفس قائم کرنے اور فنگر پرنٹس کی تصدیق نہ ہونے کی صورت میں چہرے کی شناخت کی ٹیکنالوجی متعارف کرانے کی بھی سفارش کردی۔ ذیلی کمیٹی نے ای پی زیڈز اور ایس ای زیڈز ختم کرنے کے معاملے پر صنعتی و سرمایہ کاری مفادات کے تحفظ کیلئے آئی ایم ایف سے دوبارہ مذاکرات کرنے پر زور دیا۔ذیلی کمیٹی کا اجلاس کنوینر سینیٹر طلحہ محمود کی زیرصدارت ہوا جس میں پاکستان سے صنعتوں کی منتقلی، ایف بی آر میں گورننس، کاروباری سہولیات اور معمول کے کاروباری اوقات کی بحالی سمیت مختلف امور کا جائزہ لیا گیا۔ کمیٹی نے ایف بی آر پر کاروباری برادری سے رابطے مؤثر بنانے اور کاروبار میں آسانی کیلئے سہولیات فراہم کرنے پر زور دیا۔

ایف بی آر حکام نے بتایا کہ تاجروں اور صنعتکاروں کے مسائل کے حل کیلئے مشترکہ کمیٹیاں قائم کی گئی ہیں۔وزیراعظم کی ہدایت پر چیئرمین ایف بی آر ہر ماہ کے پہلے ہفتے کراچی میں کیمپ آفس قائم کریں گے ، جبکہ لاہور میں بھی دو روزہ کیمپ آفس بنانے کی منصوبہ بندی کی گئی ہے ۔ کنوینر نے ہدایت کی کہ یہ سہولت ایف بی آر کے چیف کمشنرز تک بھی فراہم کی جائے ۔ انہوں نے قانون کی اجازت کی صورت میں بینک گارنٹی یا چیک کے متبادل کے طور پر انشورنس گارنٹی کے استعمال کی تجویز دی، جس پر ایف بی آر نے معاملہ دیکھنے کی یقین دہانی کرائی۔کنوینر نے فنگر پرنٹس کی تصدیق نہ ہونے والے ٹیکس دہندگان کی سہولت کیلئے چہرے کی شناخت کی ٹیکنالوجی متعارف کرانے کی سفارش کی اور ایف بی آر و نادرا کو مسئلے کے فوری حل کیلئے رابطہ کرنے کی ہدایت کی۔ کمیٹی نے ایف بی آر افسران کی دوہری شہریت اور مستقل غیر ملکی رہائش رکھنے والے افسران کی فہرست بھی طلب کرلی۔وزارت صنعت و پیداوار نے ایکسپورٹ پروسیسنگ زونز اور اسپیشل اکنامک زونز کے حوالے سے بریفنگ دی۔ کمیٹی کو بتایا گیا کہ آئی ایم ایف کی شرائط کے تحت ٹیکس نظام میں امتیازات ختم کرنے کیلئے ان زونز کو 2035ء تک مرحلہ وار ختم کیا جائے گا۔ 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

Comments / رائے دیں

Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.

Your comment will remain hidden until approved by admin.

Approved Comments

Loading comments...