ایچ ڈی آئی پی دو سال سے مستقل سربراہ سے محروم ، پٹرولیم کمیٹی برہم
کمیٹی نے ایکسپلوسو ڈیپارٹمنٹ کے ڈی جی کی کنٹریکٹ پر تعیناتی کی تفصیلات طلب کرلیں خاتون عارضی ملازم کی مستقلی کیلئے سفارش پر عملدرآمد نہ ہونے پر کمیٹی ارکان کا برہمی کا اظہار
اسلام آباد (نامہ نگار) سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے پٹرولیم کا اجلاس چیئرمین عمر فاروق کی زیرصدارت ہوا جس میں ہائیڈرو کاربن ڈویلپمنٹ انسٹیٹیوٹ آف پاکستان (ایچ ڈی آئی پی) اور ایکسپلوسو ڈیپارٹمنٹ میں تقرریوں کا جائزہ لیا گیا۔رکن کمیٹی قرۃ العین مری نے وزارت پٹرولیم کی کارکردگی پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ کمیٹی کو مطلوبہ کاغذات بروقت فراہم نہیں کیے جا رہے ۔چیئرمین نے ایچ ڈی آئی پی کے مستقل سربراہ کی عدم تعیناتی پر سوال اٹھایا۔ حکام نے بتایا کہ دو سال سے ادارے کا عارضی چارج پٹرولیم ڈویژن کے سپیشل سیکرٹری کے پاس ہے جبکہ مستقل سربراہ کی تعیناتی کا عمل آخری مراحل میں ہے اور وزیراعظم کی منظوری کے بعد تقرری ہوگی۔
حکام کے مطابق ایچ ڈی آئی پی تحقیقی ادارہ ہے جو درآمدی ایندھن کے معیار کی جانچ بھی کرتا ہے ۔ اس کا سالانہ بجٹ 70 کروڑ روپے جبکہ حکومتی گرانٹ 50 کروڑ روپے ہے ۔ایکسپلوسو ڈیپارٹمنٹ کے ڈی جی کی کنٹریکٹ پر تعیناتی پر چیئرمین نے سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ اسامیوں کا غلط استعمال نہیں ہونا چاہیے ۔ کمیٹی نے تعیناتی کا طریقہ کار اور متعلقہ تفصیلات طلب کرلیں۔خاتون عارضی ملازم کی مستقلی کے معاملے پر قرۃ العین مری نے کہا کہ کمیٹی پہلے ہی سفارش کرچکی ہے ۔ جام سیف اللہ نے کہا کہ عملدرآمد نہ ہوا تو معاملہ استحقاق کمیٹی میں لے جایا جائے گا۔ چیئرمین نے پٹرولیم ڈویژن کو عملدرآمد یقینی بنانے کی ہدایت کی۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments