اگست میں دہشتگردی 38 فیصد بڑھ گئی ، 199 حملوں میں 158 افراد جاں بحق ہوئے
بلوچستان میں 89، پختونخوا کے مین لینڈ اضلاع میں 54، ضم اضلاع میں 52، پنجاب اور سندھ میں دو دو حملے ریکارڈ سکیورٹی فورسزکی انسدادِ دہشتگردی کارروائیوں اور انٹیلیجنس بیسڈ آپریشن میں 203دہشت گردہلاک، 21زخمی ہوئے
اسلام آباد (ذیشان یوسفزئی)ملک میں دہشت گردی کی لہر جاری ہے اوراگست کے مہینے میں جولائی کے مقابلے میں دہشت گرد حملوں میں 38 فیصد اضافہ ہواہے ،تھنک ٹینک پاکستان انسٹی ٹیوٹ فار کانفلیکٹ اینڈ سکیورٹی اسٹڈیز کی رپورٹ کے مطابق اگست میں 199 دہشت گرد حملے ہوئے ہیں جبکہ جولائی میں دہشت گرد حملوں کی تعداد 144 تھی۔رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ اگر چہ دہشت گرد حملوں کی تعداد میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے لیکن جولائی کے مقابلے میں ان حملوں کے نتیجے میں ہونے والے جانی نقصان میں کمی ہوئی۔ اگست میں ہونے والے 199 دہشت گردی حملوں کے نتیجے میں 158 افراد جاں بحق اور 181 زخمی ہوئے ، جبکہ جولائی میں 144 حملوں کے دوران 268 افراد جاں بحق اور 216 زخمی ہوئے تھے ۔ دوسری جانب سکیورٹی فورسز نے انسدادِ دہشت گردی کی کارروائیاں جاری رکھی ہوئی ہیں اور اگست میں انسدادِ دہشت گردی کارروائیوں اور انٹیلیجنس بیسڈ آپریشن میں 203 دہشت گرد مارے گئے ، 21 دہشت گرد زخمی جبکہ 26 مشتبہ گرفتار کیے گئے ۔ سکیورٹی فورسز نے اگست میں بلوچستان میں 115، پختونخوا کے مین لینڈ اضلاع میں 50 سے زائد جبکہ سابق قبائلی اضلاع میں 32 دہشت گرد ہلاک کیے۔
اگست میں تین خودکش حملے بھی ہوئے ہیں، جن میں دو گاڑیوں کے ذریعے کیے گئے خودکش حملے شامل تھے ۔ جولائی میں آٹھ خودکش حملے ہوئے تھے ، جن میں پانچ گاڑیوں کے ذریعے کیے گئے تھے ۔ اگست میں 42 اور جولائی میں 66 اغواکے واقعات ہوئے ۔ رپورٹ کے مطابق بلوچستان میں سکیورٹی صورتحال سب سے زیادہ سنگین رہی ہے ،جہاں اگست میں 89 اورجولائی میں 83 دہشتگردحملے ہوئے ۔پختونخوامیں اگست کے دوران 54 اورضم اضلاع میں52 دہشتگرد حملے ریکارڈ کیے گئے ۔ اس مرتبہ حملوں میں ٹیکٹیکل اسالٹس (TA)سب سے زیادہ استعمال ہونے والی حکمت عملی رہی، یعنی کہ سیکورٹی تنصیبات، چیک پوسٹ یا دیگر سرکاری تنصیبات پر منظم حملے ریکارڈ ہوئے ہیں،جس کی تعداد 47 ہے ۔ اس کے علاوہ ٹارگٹ کلنگز کے 46 اور آئی ای ڈی حملوں کے 36 واقعات ریکارڈ کیے گئے ۔ ٹیکٹیکل اسالٹس کے نتیجے میں 40 افراد جاں بحق اور 44 زخمی ہوئے ، جبکہ ٹارگٹ کلنگز میں 50 افراد جاں بحق اور 23 زخمی ہوئے ۔ آئی ای ڈی حملوں کے نتیجے میں 15 افراد جاں بحق اور 50 زخمی ہوئے ۔ رپورٹ کے مطابق پنجاب میں دو دہشت گرد حملے ریکارڈ کیے گئے جبکہ سندھ میں اگست کے دوران دو حملے ہوئے۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments