ہائیکورٹ:کم عمر لڑکی کی شادی سے متعلق تحریری فیصلہ جاری

 ہائیکورٹ:کم عمر لڑکی کی شادی  سے متعلق تحریری فیصلہ جاری

لاہور(کورٹ رپورٹر )لاہور ہائیکورٹ نے 18 سال سے کم عمر لڑکی کی شادی سے متعلق 11 صفحات پر مشتمل تحریری فیصلہ جاری کر دیا۔

جسٹس منور اقبال دوگل نے قصور کے رہائشی محمد اسلم کی درخواست پر تحریری فیصلہ جاری کرتے قرار دیا ہے کہ پنجاب چائلڈ میرج ریسٹرینٹ ایکٹ 2026 کے تحت 18 سال سے کم عمر لڑکی سے شادی غیر قانونی اور چائلڈ میرج کے زمرے میں آتی ہے ،نابالغ لڑکی کی رضامندی اس قانونی پابندی کو ختم نہیں کرتی، ایسے جرم میں 5 سے 7 سال تک قید ،کم از کم 10 لاکھ روپے جرمانہ عائد ہوسکتا ہے ۔ لاہور ہائیکورٹ نے ایس ایچ او بی ڈویژن قصور کو متعلقہ قانون کے تحت مقدمہ درج کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے جسٹس آف پیس قصور کا مقدمہ درج نہ کرنے کا فیصلہ بھی کالعدم قرار دیا۔ 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

Comments / رائے دیں

Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.

Your comment will remain hidden until approved by admin.

Approved Comments

Loading comments...