سندھ اسمبلی میں اپوزیشن کا شور شرابہ، ’’ سندھو دیش نامنظور‘‘ کے نعرے
جو کچھ ہونا تھا کل ہوگیا، آج آپ کیا کریں گے ؟ اسپیکر، علیحدگی پسند تنظیموں کیخلاف ایم کیو ایم کی قرارداد جمع حکومت نے رعونت و تعصب کا مظاہرہ کیا، علیحدگی پسندوں کیخلاف قرارداد کی اجازت نہیں دی:علی خورشیدی جوابی قرارداد گمراہ کرنے کی کوشش، سندھو دیش ہو یا جناح پور، پی پی ہر صورت ملک کا دفاع کریگی:ناصر شاہ، کھوڑو
کراچی (سٹاف رپورٹر) سندھ اسمبلی کے اجلاس میں جمعہ کو اپوزیشن نے شدید شور شرابہ اور نعرے بازی کی، ‘‘سندھو دیش نامنظور’’ کے نعرے بھی لگائے گئے ۔ اسپیکر اویس قادر شاہ نے مختصر کارروائی کے بعد اجلاس پیر کی دوپہر ڈھائی بجے تک ملتوی کردیا۔ کارروائی کے آغاز ہی میں ایم کیو ایم ارکان نے نعرے لگانا شروع کردیئے ، جس پر اسپیکر نے کہا ‘‘جو کچھ ہونا تھا کل ہوگیا، آج آپ کیا کریں گے ’’ اور ایوان میں نظم و ضبط برقرار رکھنے کی ہدایت کی، تاہم شور شرابہ جاری رہا۔ہنگامہ آرائی کے دوران وزیر قانون ضیاالحسن لنجار نے آڈٹ رپورٹ ایوان میں پیش کی، جبکہ مشیر نجمی عالم نے محکمہ کچی آبادی سے متعلق سوالات کے جواب دیئے ۔ انہوں نے بتایا کہ 2011 سے پہلے قائم کچی آبادیوں کو ہی لیز کیا جائے گا، اس کے بعد قائم ہونے والی آبادی قبضہ تصور ہوگی۔ لیز کے لیے بورڈ آف ریونیو کا این او سی لازمی ہے ۔ کراچی میں مسلسل نقل مکانی کے باعث آبادی بڑھ رہی ہے ، جبکہ لائنز ایریا کے ری سیٹلمنٹ منصوبے کے لیے جلد بورڈ اجلاس ہوگا۔
نجمی عالم نے کہا کہ کچی آبادی کا پلاٹ ایسے شخص کو نہیں ملے گا جس کے پاس پہلے سے جائیداد موجود ہو۔ حکومت سستی بستیاں قائم کرنے کے لیے زمین حاصل کررہی ہے جہاں غریبوں کو قسطوں پر گھر دیئے جائیں گے۔ نالوں پر آباد افراد کو ہٹانا ضلعی انتظامیہ کی ذمہ داری ہے ۔ تھرپارکر اور عمرکوٹ میں دستاویزات نہ رکھنے والوں کو مالکانہ حقوق دینے کے لیے بھی کام جاری ہے ۔دریں اثنا ایم کیو ایم پاکستان کے ڈپٹی پارلیمانی لیڈر طحہٰ احمد خان نے ارکان اسمبلی کے ہمراہ سندھودیش اور پاکستان میں تمام علیحدگی پسند تنظیموں کے خلاف قرارداد جمع کرا دی۔ اجلاس کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے قائد حزب اختلاف علی خورشیدی نے کہا کہ ایم کیو ایم نے نئے صوبوں سے متعلق اپوزیشن کی سفارشات کو قرارداد کا حصہ بنانے کا مطالبہ کیا تھا، علیحدگی پسندوں کے خلاف بھی قرارداد لانا چاہتے تھے لیکن حکومت نے اجازت نہیں دی۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ حکومت نے رعونت اور تعصب کا مظاہرہ کیا، اسپیکر بھی دباؤ میں نظر آئے ۔طحہٰ احمد خان نے کہا کہ ایم کیو ایم تمام علیحدگی پسند تحریکوں کے خلاف ہے ، سندھ میں سندھو دیش کی تحریک کے خلاف قرارداد لائی جانی چاہیے تھی۔
انہوں نے کہا یہ وطن پاکستان ہے اور علیحدگی پسند نظریات کے خلاف آواز اٹھانا ضروری ہے ۔دوسری جانب صوبائی وزیر ناصر حسین شاہ نے اپوزیشن کے مؤقف کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ اپوزیشن سندھ کی تقسیم کی سازش چھپانے کے لیے سندھو دیش کے جھوٹے الزامات کا سہارا لے رہی ہے ۔ سندھ کی وحدت سے متعلق قرارداد کو سندھو دیش کا رنگ دینا عوام کو گمراہ کرنے کی کوشش ہے ۔ سندھو دیش ہو یا جناح پور، پیپلز پارٹی ہر صورت ملک کا دفاع کرے گی اور سندھ کی وحدت پر کوئی آنچ نہیں آنے دے گی۔پیپلز پارٹی سندھ کے صدر نثار احمد کھوڑو نے کہا کہ سندھ کی تقسیم کے خلاف قرارداد پر ووٹ نہ دینے اور بائیکاٹ سے ایم کیو ایم اور پی ٹی آئی کا سندھ دشمن چہرہ بے نقاب ہوگیا۔ انہوں نے کہا سندھ ایک ہے اور ہمیشہ ایک رہے گا، سندھ نے پاکستان بنایا تھا اور سندھ ہی پاکستان کو مضبوط رکھے گا۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments