افغان سرزمین سے دہشتگردی خطے کیلئے خطرے کی گھنٹی

افغان سرزمین سے دہشتگردی خطے کیلئے خطرے کی گھنٹی

خطہ کے ممالک کو دہشتگردی کی بیخ کنی کیلئے مشترکہ اقدامات کرنا ہوں گے

(تجزیہ: سلمان غنی)

سکیورٹی فورسز نے پاک افغان سرحد پر دہشت گردوں کی دراندازی کوششوں کو ناکام بنانے کے عمل میں 15 خوارج کو ہلاک کرنے کے ساتھ ملک میں آپریشن کا سلسلہ جاری رکھا ہوا ہے ، دہشت گردی کے خلاف کارروائیاں اس مربوط حکمت عملی کا حصہ ہے جس کے تحت پاک سرزمین کو دہشت گردی سے پاک کرنا اور خصوصاً افغان سرزمین سے پاکستان میں دراندازی کا قلع قمع کرنا اور اپنے ہاؤس کو ہر حال میں ان آرڈر بنانا مقصودہے ۔بلاشبہ دہشت گردی کا خاتمہ ایک پیچیدہ اور طویل المدتی عمل ہے تاہم ریاست پاکستان نے اس سلسلہ میں ایک واضح موقف اور حکمت عملی طے کر رکھی ہے ۔دوسری جانب افغان انتظامیہ کو اپنی ذمہ داریوں کا احساس نہیں اور وہ براہ راست دہشت گردی کے خلاف اقدامات سے گریزاں نظر آئے جس کی بہت سی وجوہات ہیں، ان میں سے اہم یہ کہ و ہ اپنی حکومت کے خاتمے سے ڈرتے ہیں اور اپنے ملک کے اندر نئی صورتحال پیدا کرنے سے گریزاں نظر آتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستان نے ممکنہ آپشنز کو بروئے کار لانے کے بعد عسکری محاذ گرم کیا اور براہ راست دہشت گردوں کو نشانہ بنانا شروع کیا اور خود افغانستان کے اندر بھی دہشت گردوں کے تربیتی مراکز کو نشانہ بنایا۔

پاکستان کیلئے صرف مسئلہ افغانستان کے اندر سے ہی دہشت گردی نہیں بلکہ پاکستان کا ازلی دشمن بھارت اور بعض دیگر طاقتیں بھی پاکستان کی بڑھتی علاقائی اہمیت پر اثر انداز ہونے کیلئے دہشت گردوں کی مدد کرتی اور انہیں اسلحہ اور فنڈنگ فراہم کرتی نظر آتی ہیں ۔افغان طالبان کا دوراشرف غنی اور حامد کرزئی کے دور سے بھی بدترین ثابت ہوا اور دہشت گردی کئی گنا بڑھ گئی ۔اب بھی جو سلسلہ چل رہا ہے اس میں مصدقہ شواہد ہیں کہ دہشت گردوں کو براہ راست بھارت، اس کی خفیہ ایجنسی را کی پشت پناہی اور ممکنہ مدد حاصل ہے ۔ افغانستان بھارت کا پراکسی بن چکا ہے اور بھارت دہشت گرد نیٹ ورکس کو فنڈنگ اور تربیت فراہم کر رہا ہے ۔ دیکھا جائے تو ٹی ٹی پی اور افغان طالبان کے گہری نظریاتی، تاریخی اور قبائلی تعلقات ہیں ۔ان گروہوں کے خلاف کارروائی نہ کرکے طالبان اپنے اندرونی اتحاد کو برقرار رکھنا چاہتے ہیں اور کسی بین الاقوامی ذمہ داری سے بچنا چاہتے ہیں۔ لیکن پاکستان بھی پرعزم ہے کہ وہ اپنی سرزمین کو دہشت گردی سے پاک کر کے چھوڑے گا اور دراندازی کے مرتکب عناصر اس کی دسترس سے بچ نہ پائیں گے ۔ اب یہ صورتحال بن چکی ہے کہ دنیا بھی یہ کہتی نظر آ رہی ہے کہ پاکستان اپنے حق دفاع کو استعمال کرتا ہوا دہشت گردی کے خلاف لڑ رہا ہے اور افغان طالبان ذمہ داریوں میں ناکام نظر آ رہے ہیں۔

خود یو این او نے بھی افغان سرزمین پر دہشت گردی کے رجحانات کی تصدیق کرتے ہوئے اس کی ذمہ داری افغان طالبان پر ڈالی ہے اور کہا ہے کہ یہ ٹی ٹی پی کی پشت پناہی کررہے ہیں۔ امریکا نے بھی تسلیم کیا ہے کہ پاکستان اور عوام دہشت گردوں کے ہاتھوں بہت متاثر ہوئے ہیں اورطالبان انتظامیہ اپنی بنیادی ذمہ داری پوری نہیں کر سکی۔ امریکی خارجہ آفس نے افغان طالبان پر انسداد دہشت گردی کے وعدوں پر مسلسل ناکامی کا الزام عائد کیا ہے ۔مغربی ماہرین افغان سرزمین پر دہشت گردی کے عمل کو خطہ کیلئے خطرناک اور خطرے کی گھنٹی قرار دیتے ہوئے یہ کہتے نظر آ رہے ہیں کہ خطہ کے ممالک کو اس عمل کی بیخ کنی کیلئے مشترکہ اقدامات کرنا ہوں گے ۔بعض ماہرین دہشت گردی کے اس عمل کو پاکستان کیلئے سٹرٹیجک خطرہ قرار دیتے نظر آتے ہیں اور سفارت کاری کو ہی حل کا واحد راستہ سمجھتے ہیں۔ خلیجی ممالک کا بھی زور پرامن حل کی جانب ہے ، ان کے خیال میں پاکستان افغانستان کشیدگی خطے کو لپیٹ میں لے سکتی ہے۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

Comments / رائے دیں

Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.

Your comment will remain hidden until approved by admin.

Approved Comments

Loading comments...