زرعی برآمدات میں اضافہ معاشی خودمختاری کیلئے ناگزیر ، احسن اقبال
قرض وقتی حل ،بار بار آئی ایم ایف کے پاس جانا معاشی مسائل کا مستقل علاج نہیں پاکستان کو سو ارب ڈالر برآمدات کا ہدف حاصل کرنا ہوگا، گول میزکا نفرنس سے خطاب
اسلام آباد (وقائع نگار)وفاقی وزیر منصوبہ بندی و ترقی احسن اقبال نے گول میز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا زرعی برآمدات میں اضافہ معاشی خودمختاری کیلئے ناگزیر ہے ، 2035تک پاکستان کو ایک ٹریلین ڈالر کی معیشت بنانا ہے ۔برآمدات میں مطلوبہ کارکردگی نہ دکھانا پاکستان کے معاشی بحران کی بڑی وجہ ہے ۔ برآمدات میں اضافہ نہ ہونے کی وجہ سے پاکستان کو بار بار دوست ممالک اور آئی ایم ایف سے رجوع کرنا پڑتا ہے ، بار بار آئی ایم ایف کے پاس جانا پاکستان کے معاشی مسائل کا مستقل حل نہیں، سیاسی عدم استحکام اور پالیسیوں کے تسلسل میں فقدان نے پاکستان کی ترقی متاثر کی۔معاشی ترقی کے لیے کم از کم دس سال تک پالیسیوں کا تسلسل ضروری ہے ۔قرض لے کر زرمبادلہ کی ضروریات پوری کرنا وقتی حل ہے ، مستقل علاج نہیں۔
پاکستان کو 100 ارب ڈالر کی برآمدات کے ہدف کی طرف بڑھنا ہوگا، یہ ہدف حاصل نہ کیا تو پاکستان معاشی مشکلات سے نکل نہیں سکے گا۔ نوجوان آبادی کے پیش نظر پاکستان کو 6 سے 8 فیصد معاشی شرح نمو حاصل کرنا ہوگی۔ زرعی ملک ہونے کے باوجود پاکستان کا زرعی اجناس درآمد کرنا بڑا المیہ ہے ۔ایگرو فوڈ پروسیسنگ کو فروغ دے کر زرعی برآمدات میں اضافہ کیا جا سکتا ہے ، عالمی معیار پر پورا اترے بغیر پاکستانی زرعی مصنوعات کی برآمدات میں اضافہ ممکن نہیں۔مشرق وسطیٰ کی حلال گوشت کی بڑی مارکیٹ سے پاکستان بھرپور فائدہ اٹھا سکتا ہے ۔ ہمیں موسمیاتی تبدیلی کے چیلنجز سے ہم آہنگ ہو کر زرعی شعبے کو آگے بڑھانا ہوگا۔ انہوں نے کہا حکومت زرعی شعبے سے وابستہ مزید ایک ہزار افراد کا دوسرا بیچ جلد چین روانہ کرے گی۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments