سانحہ گل پلازہ کیس کا چالان جمع، تنویر پاستا مرکزی ملزم قرار
پلازہ انتظامیہ کی مبینہ غفلت کا بھی ذکر،سرکاری اداروں کو کلین چٹ دیدی گئی
کراچی (مانیٹرنگ ڈیسک) جوڈیشل مجسٹریٹ جنوبی کی عدالت میں تفتیشی حکام نے گل پلازہ آتشزدگی کے مقدمے کا چالان جمع کرادیا، جس میں تنویر پاستا کو مرکزی ملزم قرار دیا گیا ہے ۔ جوڈیشل مجسٹریٹ جنوبی کی عدالت کے روبرو سانحہ گلازہ کیس کی سماعت ہوئی۔ تنویر پاستا اور دیگر ملزم عدالت میں پیش ہوئے ۔ تفتیشی افسر ڈی ایس پی عامر ورک نے چالان عدالت میں جمع کرا دیا۔ چالان میں گل پلازہ ایسوسی ایشن کو مرکزی ذمہ دار قرار دیا گیا ہے ۔ چالان میں سرکاری اداروں کو کلین چٹ دیدی گئی۔ چالان میں کہا گیا ہے کہ کے ایم سی، فائر بریگیڈ اور سول ڈیفنس کے خلاف کوئی غفلت نہیں پائی گئی۔ تفتیش کے دوران سی سی ٹی وی فوٹیج، USB، NVR اور DVR سمیت مختلف شواہد حاصل کئے گئے۔
فارنزک رپورٹ کے مطابق اشیا میں کوئی دھماکا خیز مواد نہیں ملا۔ فارنزک رپورٹ میں کسی قابل اشتعال مائع کے آثار بھی نہیں ملے۔ فارنزک رپورٹ میں بعض اشیا میں جلنے کے بعد باقی رہ جانے والے ذرات کی موجودگی کی نشاندہی کی گئی۔ چالان کے مطابق گل پلازہ آتشزدگی میں فائر سیفٹی انتظامات پر بھی سوالات اٹھائے گئے ہیں۔ پولیس چالان میں گل پلازہ انتظامیہ کی مبینہ غفلت اور فائر سیفٹی انتظامات کا بھی ذکر کیا گیا۔چالان میں دکانوں اور عمارت میں موجود حفاظتی انتظامات سے متعلق بیانات بھی شامل کیے گئے ۔
پولیس نے مزید قانونی کارروائی اور عدالتی حکم کے لیے چالان عدالت میں جمع کرایا۔ مقدمے میں تعزیرات پاکستان کی دفعات 322، 337-H(ii)، 436، 427 اور 285 شامل ہیں۔ چالان میں کہا گیا ہے کہ تنویرپاستا، رمضان، نعمت اللہ، عمار اسماعیل ضمانت پر ہیں۔ 11 سالہ حذیفہ کا نام ملزم کی فہرست میں شامل نہیں ہے ۔ چالان کے ساتھ 85 گواہوں کی فہرست بھی پیش کی گئی ہے ۔ ملزم امین کو چالان میں مفرور ظاہر کیا گیا ہے ۔ چالان میں سانحہ گل پلازہ میں 72 افراد کے جاں بحق ہونے کا بھی ذکر کیا گیا ہے ۔ 11 سالہ حذیفہ کا مقدمہ الگ کردیا گیا۔ حذیفہ کا جیو نائل کیس میں چالان پیش کردیا گیا۔ عدالت نے سماعت 9 ستمبر تک ملتوی کردی۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments