پہلی بارملکی قرضوں کابوجھ 83 ہزار 383 ارب سے متجاوز

پہلی بارملکی قرضوں کابوجھ  83 ہزار 383 ارب سے متجاوز

کراچی(رپورٹ محمد حمزہ گیلانی)پاکستان کے قرضوں کا پہاڑ مزید بلند ہوگیا، ملکی مجموعی قرضوں کا حجم پہلی بار 83 ہزار 383 ارب روپے سے تجاوز کرگیا۔

اسٹیٹ بینک کے تازہ اعدادوشمار کے مطابق جولائی 2026ء میں پاکستان کے مجموعی قرضوں میں ایک سال کے دوران 6.6 فیصد یعنی 5 ہزار ارب روپے سے زائد کا اضافہ ہوا۔ اسٹیٹ بینک کے مطابق جولائی 2025ء میں ملکی مجموعی قرضوں کا حجم 78 ہزار 238 ارب روپے تھا جو جولائی 2026ء تک بڑھ کر 83 ہزار 383 ارب روپے ہوگیا۔ تاہم جون 2026ء کے مقابلے میں جولائی میں مجموعی قرضوں میں0.3 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی۔ اعدادوشمار کے مطابق حکومت کا مقامی قرض ایک سال کے دوران 54 ہزار 988 ارب روپے سے بڑھ کر 59 ہزار 274 ارب روپے ہوگیا، یوں صرف ایک سال میں مقامی قرض میں 4 ہزار ارب روپے سے زائد کا اضافہ ہوا۔

جون 2026ء کے مقابلے میں جولائی میں حکومتی مقامی قرض میں بھی 0.3 فیصد کمی ہوئی۔دوسری جانب پاکستان کا بیرونی قرض بھی مسلسل بڑھتا رہاجولائی 2026ء میں بیرونی قرض ایک سال میں 850 ارب روپے سے زائد بڑھ کر 24 ہزار 109 ارب روپے ہوگیاجو جولائی 2025ء میں 23 ہزار 250 ارب روپے تھا، اسٹیٹ بینک کے مطابق بیرونی قرض میں سالانہ بنیاد پر 3.6 فیصد اضافہ جبکہ ماہانہ بنیاد پر 0.4 فیصد کمی ہوئی۔ پاکستان کی مالی مشکلات کی سنگینی کا اندازہ اس امر سے بھی لگایا جاسکتا ہے کہ قرض، سود اور سرکاری ضمانتوں کی مجموعی رقم پہلی بار 99 ہزار ارب روپے سے تجاوز کرگئی۔ معاشی ماہرین کے مطابق قرضوں میں مسلسل اضافے کے باعث پاکستان کی معیشت پر مالی دباؤ بڑھ رہا ہے جبکہ فی پاکستانی قرض کا بوجھ بھی تقریباً پانچ لاکھ روپے تک پہنچ چکا۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

Comments / رائے دیں

Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.

Your comment will remain hidden until approved by admin.

Approved Comments

Loading comments...