نئے صوبے ناگزیر کیوں؟ فیصلہ ایوان کے اندر سے ہوگا یا باہر سے

نئے صوبے ناگزیر کیوں؟ فیصلہ ایوان کے اندر سے ہوگا یا باہر سے

(تجزیہ:سلمان غنی) بظاہر نئے صوبوں کی تشکیل پر ہونے والی کسی بڑی پیش رفت کے امکانات نظر نہ آنے کے باوجود عملاً اس حوالہ سے حکومتی سیاسی اور فیصلہ ساز حلقوں میں نفسیاتی جنگ عروج پر ہے۔

ایک طرف نئے صوبوں کی تشکیل کے حوالہ سے فیصلہ نوشتہ دیوار نظر آ رہا ہے اور خود اس کی تصدیق اعلیٰ سطحی حکومتی و سیاسی ذمہ دار کرتے نظر آ رہے ہیں، لیکن دوسری جانب حکمران جماعتیں خصوصاً پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ ن شدید مشکل صورتحال سے دوچار نظر آ رہی ہیں ۔پیپلز پارٹی نے تو سندھ اسمبلی میں باقاعدہ سندھ صوبہ کی تقسیم کے خلاف قرارداد پاس کر کے واضح اعلان کر دیا ہے کہ اسے یہ آپشن کسی طور پر قبول نہیں اور پیپلز پارٹی کی لیڈر شپ خصوصاً صدر مملکت آصف زرداری اور چیئرمین بلاول بھٹو زرداری لندن میں پڑاؤ ڈالے ہوئے ہیں اور وہاں سے بھی ان کے حوالہ سے خبریں یہی ہیں کہ وہ صوبوں کی تقسیم پر لچک دکھانے کو تیار نہیں۔

جہاں تک حکمران مسلم لیگ ن کا سوال ہے تو وزیراعظم شہباز شریف بظاہر اس حوالہ سے کوئی رائے دیتے نظر نہیں آ رہے ،لیکن مسلم لیگ ن میں بھی پنجاب کی تقسیم کے حوالہ سے تحفظات موجود ہیں مگر وہ اس کا کھلا اظہار کرنے سے گریزاں ہے ۔ بڑا اور بنیادی سوال یہ ہے کہ کیا نئے صوبوں کی تجویز پر پیش رفت ہوگی اور کیسے ہوگی اور یہ کہ پیپلز پارٹی اس حوالہ سے کیونکر لچک دکھانے کو تیار نہیں، مسلم لیگ ن اپنا وزن کدھر ڈالے گی اور اگر نئے صوبوں کے حوالہ سے آئینی ترمیم کیلئے راہ ہموار نہیں ہوتی تو پھر اس آپشن کا کیا ہوگا ۔جہاں تک نئے صوبوں کی تجویز پر پیش رفت کا سوال ہے تو یہ آپشن موثر ہی تب بنا جب سیاسی قوتوں اور صوبائی حکومتوں کی جانب سے ضلعی حکومتوں اور بلدیاتی سسٹم کے حوالہ سے سنجیدگی نہ دکھائی گئی۔

اب صورتحال تو یہی ہے کہ فیصلہ ساز نئے صوبوں پر پیش رفت پر خاصے سنجیدہ ہیں اور انہوں نے اس ضمن میں سیاسی قوتوں کو اپنا کردار ادا کرنے اور آئینی معاملات سے نمٹنے کی ذمہ داری دی لیکن اس کے باوجود بھی حکمران جماعتوں نے سرد مہری دکھائی۔نئے صوبوں کی تجویز پر پیش رفت دو تہائی اکثریت سے ہی ممکن ہے ۔نئے صوبوں میں سنجیدگی اختیار کرنے والی قوتیں متبادل آپشنز پر بھی کام کر رہی ہیں جن میں ریفرنڈم کا عمل اس لئے ممکن نظر نہیں آ رہا کہ اس میں وزیراعظم کی طرف سے تجویز کو بھی حتمی شکل صدر مملکت کے دستخطوں سے ہی حاصل ہوگی۔اگر سیاسی جماعتیں اس آپشن کیلئے تیار نہیں ہوتیں تو پھریہ کام تو ہونا ہے ، یہ اب روکے نہیں رکے گا ۔

وزیر داخلہ محسن نقوی کے خطاب کو نئے صوبوں کی تشکیل کے عمل بارے اہم قرار دیا جا سکتاہے ، انہوں نے واضح کردیا کوئی فرد واحد یا جماعت نئے انتظامی یونٹس کو نہیں روک سکتی۔ انہوں نے کسی کا نام تو نہیں لیا لیکن اسے پیپلز پارٹی کیلئے کھلا پیغام قرار دیا جا سکتا ہے ۔ صوبوں کے حوالہ سے پیش رفت ناگزیر دکھائی دے رہی ہے تو یہ کہا جا سکتا ہے شاید نئے صوبوں کے حوالہ سے پارلیمنٹ میں فیصلہ ممکن نہ ہو سکے ، اب یہ معاملہ اندر سے نہیں باہر سے ممکن بن سکتا ہے ، مگر کیا ممکن بن پائے گا یہ دیکھنا ہوگا۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

Comments / رائے دیں

Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.

Your comment will remain hidden until approved by admin.

Approved Comments

Loading comments...