گھریلونگہداشت:خواتین کی بلامعاوضہ خدمات معیشت میں شمار نہیں
مردوں کی نسبت خواتین 9گنازیادہ کیئرورک کرتیں،نیشنل کمیشن آف ویمن سٹیٹس بلامعاوضہ نگہداشت کو قومی معیشت میں شامل کر کے کیئر اکانومی پالیسی بنائی جائے زچگی کے بعد ملازمت کا تحفظ، مشترکہ چھٹی اور طبی سہولتیں یقینی بنانے کی سفارش بزرگوں کی دیکھ بھال کا نظام قائم، صنفی بنیاد پر کیئر ورک انڈیکس مقرر کرنے کی تجویز
اسلام آباد(حریم جدون)دنیا کے بیشتر ممالک میں گھریلو نگہداشت کا شعبہ معیشت کا باقاعدہ حصہ بن گیا تاہم پاکستان میں گھریلو نگہداشت کا تقریباً سارا بوجھ خواتین کے کاندھوں پر ہے جو وہ بلا معاوضہ انجام دیتی ہیں۔ اس صورتحال میں نیشنل کمیشن آن دی سٹیٹس آف ویمن (این ایس ڈبلیو)نے نگہداشت کے شعبے میں اہم اصلاحات کرکے ‘‘نیشنل کیئر اکانومی’’کی تجویز پیش کی ہے ،این ایس ڈبلیو کے مطابق خواتین مردوں کی نسبت 9 گنا زیادہ کیئر ورک کرتی ہیں ، خواتین کی یہ رضاکارانہ خدمات قومی معیشت میں معاون تو ہیں تاہم قومی کھاتوں میں اس کا کوئی شمار ہی نہیں ، کمیشن نے سفارش کی ہے کہ خواتین کی جانب سے نگہداشت کی بلامعاوضہ خدمات کو قومی معیشت میں شمار کیا جائے جس کیلئے ‘‘کیئر اکانومی پالیسی اور روڈ میپ’’ تشکیل دینے کی ضرورت ہے ،کمیشن نے یہ سفارش بھی کی ہے کہ کیئر اکانومی کو قومی ترقیاتی منصوبہ بندی کا حصہ بنایا جائے ۔ بلا معاوضہ نگہداشت کو باقاعدہ ایک شعبہ تسلیم کرکے ادارہ جاتی ذمہ داریاں اور عملدرآمد کا نظام تشکیل دیا جائے۔
کمیشن نے کیئر اکانومی سے متعلق پالیسی میں بڑے نقائص کی نشاندہی بھی کی ، کمیشن کا کہنا ہے کہ ملازمت پیشہ خواتین کیلئے زچگی کی چھٹی 12 ہفتے ہے جبکہ سندھ میں یہ دورانیہ 16 ہفتے مقرر ہے ، گود لینے والی اور اپنا روزگار چلانے والی خواتین کیلئے زچگی کی چھٹی کی کوئی واضح پالیسی موجود ہی نہیں، اسی طرح موجودہ پالیسی میں زچگی کے بعد ملازمت پر یقینی واپسی اور روزگار کے تحفظ کی ضمانت بھی موجود نہیں ، خواتین کے ساتھ ان کے شوہروں کی مشترکہ چھٹی کا قانونی حق نہ ہونے سے بچوں کی دیکھ بھال کا بوجھ بھی خواتین پر اکیلے ہی پڑتا ہے ۔ کمیشن نے نشاندہی کی کہ کام کے مقامات پر حاملہ اور دودھ پلانے والی خواتین کیلئے مزید قانونی تحفظ درکار ہے ، دودھ پلانے کے وقفے اور قبل از پیدائش طبی معائنے کیلئے لازمی چھٹی نہ ہونے کا مسئلہ بھی درپیش ہے ۔ پاکستان میں بزرگوں کی دیکھ بھال کیلئے باضابطہ نظام موجود نہیں۔ نگہداشت کا بوجھ خواتین کی ملازمت اور معاشی مواقع محدود کر رہا ہے ۔کمیشن نے سفارش کی ہے کہ ادارہ شماریات اور صوبائی بیوروز صنفی بنیاد پر کیئر ورک کے انڈیکس مقرر کرے کیونکہ دنیا کے بیشتر ممالک میں گھریلو کیئر ورک معیشت کا ایک باقاعدہ حصہ بن گیا ہے ۔ اس سلسلے میں پالیسی، روڈ میپ کی تشکیل اور موثر عملدرآمد سے معیشت کو بھی سہارا ملے گا۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments