پاکستان سمیت 8 ممالک کی فلسطینیوں کی جبری بیدخلی کی مذمت
غزہ مقبوضہ فلسطین کا اٹوٹ حصہ ، امن کا واحد راستہ دو ریاستی حل پر عملدرآمد عالمی برادری فلسطینیوں کی مشکلات کے خاتمہ کیلئے ذمہ داریاں پوری کرے :بیان
اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)پاکستان سمیت 8 ملکوں نے اسرائیلی وزرا کے غزہ سے فلسطینیوں کی بے دخلی سے متعلق بیانات کی شدید مذمت کی ہے اور فلسطینیوں کے جائز حقوق کو نقصان پہنچانے کی تمام کوششیں مسترد کردی ہیں۔پاکستان، مصر، انڈونیشیا، اردن، قطر، سعودی عرب، ترکیے اور متحدہ عرب امارات کے وزرائے خارجہ کی جانب سے جاری اعلامیے میں فلسطینی عوام کی اپنی سرزمین پر ثابت قدمی کی مکمل حمایت کا بھی اعادہ کیا گیا ہے ۔اس حوالے سے مشترکہ اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ غزہ مقبوضہ فلسطینی علاقے کا اٹوٹ حصہ ہے ، غزہ اور مغربی کنارے سمیت مقبوضہ بیت المقدس پر مشتمل فلسطینی سرزمین کا اتحاد برقرار رکھا جائے ۔ منصفانہ اور پائیدار امن کا واحد راستہ دو ریاستی حل ہے ، فلسطینیوں کو بے دخل کرنے کی کوششیں خطے کے استحکام کو نقصان پہنچا سکتی ہیں۔
پاکستان سمیت 8 ملکوں نے فلسطینیوں کی جبری بے دخلی کی کسی بھی کوشش یا منصوبے کو مسترد کردیا۔ فلسطینیوں کو ان کی سرزمین سے بے دخل کرنے کے منصوبے بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی ہیں، 4 جون 1967 کی سرحدوں کے مطابق آزاد فلسطینی ریاست کا قیام اور مقبوضہ بیت المقدس ریاست کا دارالحکومت ہونا چاہیے ۔ دریں اثنا سابق اسرائیلی جرنیلوں نے حکومت پرمغربی کنارے میں آبادکاروں کے تشدد کی پشت پناہی کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا ہے کہ اصل خطرہ آبادکاروں کی کارروائیاں ہیں، ایران یا غزہ نہیں، یہ قانون شکنی اسرائیل کی جمہوریت کے وجود کے لیے خطرہ ہے ۔ ادھر اسرائیلی فوج کے مطابق جنوبی غزہ میں کارروائیوں کے دوران اس نے ایک ہدف کو غلط سمجھ کر انٹرسیپٹر میزائل داغ دیا تاہم بعد میں معلوم ہوا کہ یہ اسرائیلی ڈرون تھا۔ واقعے میں کوئی شخص زخمی نہیں ہوا۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments