ن لیگ ،پیپلزپارٹی میں موثر بلدیاتی سسٹم پر اتفاق ممکن
نئے صوبے بڑی جماعتوں کے سیاسی مفادات کا ٹکراؤ ،زرداری تناؤ کم کرسکتے
(تجزیہ:سلمان غنی)
صدر مملکت آصف علی زرداری اپنا دورہ یورپ مختصر کرتے ہوئے آج منگل کے روز واپس آ رہے ہیں۔ انہیں دو روز کیلئے فرانس جانا تھا مگر انہوں نے فرانس کا دورہ ملتوی کرکے وطن واپسی کو ترجیح دی۔ ان کی قبل از وقت وطن واپسی کو ملکی حالات خصوصاً صوبوں کی تشکیل کے حوالے سے جاری عمل سے جوڑا جا رہا ہے اور اطلاعات یہ ہیں کہ وہ پیپلزپارٹی کے اس ضمن میں موقف اور سندھ اسمبلی میں پاس ہونے والی قرارداد کے بعد کچھ ایسا کرنا چاہتے ہیں جس کے نتیجہ میں تناؤ اور درجہ حرارت بھی کم ہو اور نئے صوبوں یا انتظامی یونٹس کے حوالے سے کوئی قابل قبول حل نکلے ، کیونکہ وفاق کی علامت کے طور پر ان کے منصب کا بھی یہی تقاضا بنتا ہے کہ کسی قسم کی غیرمعمولی صورتحال طاری نہ ہو اور مسئلے کا کوئی سیاسی حل نکالا جائے ۔اس سلسلے میں وفاقی وزیرداخلہ محسن نقوی اور چیئرمین پیپلزپارٹی بلاول بھٹو کی لندن میں صدر زرداری سے ملاقاتوں کو اہم قراردیا جارہا ہے ۔
فیصلہ ساز حلقوں کا واضح اشارہ ہے کہ آپشن نئے صوبے ہی ہیں جبکہ پیپلزپارٹی نے سندھ اسمبلی کے ذریعے پیغام دیا ہے کہ کچھ بھی ہو جائے یہ نہیں بنیں گے ۔ پیپلزپارٹی پر واضح ہے کہ سندھ کی تقسیم دراصل اس کی سیاست پر اثرانداز ہوگی،ایسے میں کیا وہ اپنے فیصلے پر نظرثانی کرے گی، یہ سوال نہایت ہی اہم ہے ۔ اسلام آباد میں موجود واقفان حال کا کہنا ہے کہ صدر زرداری کچھ ایسا نہیں ہونے دیں گے جس سے سسٹم متاثر ہو وہ راستہ نکالنے اور آگے چلانے کی کوشش کریں گے ۔ جبکہ دوسری جانب پیپلزپارٹی کے ذرائع یہ سمجھ رہے ہیں کہ سندھ اسمبلی میں نئے صوبوں کی تشکیل کی مخالفت میں منظور کی گئی قرارداد کو اگر صدر زرداری کی تائید حاصل تھی تو اس پر نظرثانی کا سوال ہی پیدا نہیں ہوگا ،مگر سیاسی امور کے ماہرین کا کہنا ہے کہ صدر نے اس قرارداد کے ذریعہ حکومت کو یہ پیغام دیا ہے کہ وہ اور ان کی جماعت کئی بار ایسی تجویز کو رد کرتی ہے ۔
صدر زرداری کی وطن واپسی کو حکومت پر دباؤ بڑھانے کا ذریعہ سمجھا جا رہا تا کہ حکومت فی الحال اس تجویز پر کسی پیش رفت کیلئے تیار نہ ہو۔ دوسری طرف حکومت اور خصوصاً مسلم لیگ ن کے صدر نواز شریف نہیں چاہیں گے کہ حکومت پیپلزپارٹی کی ناراضگی مول لے بلکہ وہ اس امر پر زور دیں گے کہ جو بھی فیصلہ ہوا اس میں دونوں بڑی جماعتیں کسی ایک نکتہ پر اتفاق رائے کریں تاکہ مسئلہ کا حل نکلے اور حکومت بھی چل پائے ۔ اطلاعات یہ ہیں کہ بڑی جماعتیں ایک قابل عمل موثر بلدیاتی سسٹم پر اتفاق کرسکتی ہیں۔ ویسے بھی اگر نئے صوبوں کے مسئلہ کو دیکھا جائے تو یہ ایک تجویز نہیں بلکہ دوبڑی جماعتوں کے سیاسی مفادات کا ٹکراؤ ہے ۔یہ درجہ حرارت تب تک کم نہ ہوگا جب تک دونوں جماعتیں ملکر کوئی مشترکہ فارمولا نہ بنائیں ۔ صدر مملکت آصف زرداری کی وطن واپسی پر وزیراعظم شہباز شریف سے ملاقات ہوتی ہے تو یہ سب سے اہم بات ہوگی۔مشترکہ حل تو نکل سکتا ہے لیکن یہ آسان نہیں ہوگا،اس کا انحصار دوطرفہ لچک پر ہوگا۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments