بچے کی تحویل و سرپرستی کا مجاز فورم گارڈین کورٹ :لاہور ہائیکورٹ
ممکنہ خدشے کی بنیاد پر والدہ ، بچے کی آزادی پر پابندی نہیں لگائی جاسکتی:جسٹس اسدعلی کمسن بچے کی حوالگی کے معاملہ میں ایڈیشنل سیشن جج شیخوپورہ کا فیصلہ کالعدم قراردیدیا
لاہور (کورٹ رپورٹر)لاہور ہائیکورٹ نے کمسن بچے کی عبوری حوالگی کے معاملے میں ایڈیشنل سیشن جج شیخوپورہ کی جانب سے عائد سات لاکھ روپے کے ضمانتی مچلکے اور بچے کو عدالت کی علاقائی حدود سے باہر لے جانے پر پابندی کی شرائط کالعدم قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ کسی ممکنہ خدشے کی بنیاد پر والدہ اور بچے کی آزادی پر غیر معینہ یا مستقل پابندی عائد نہیں کی جاسکتی، گارڈین کورٹ ہی بچے کی عبوری و مستقل تحویل اور سرپرستی سے متعلق معاملات طے کرنے کا مجاز فورم ہے ۔ لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس اسد علی باجوہ نے مسز مصباح بی بی کی درخواست پر فیصلہ جاری کر دیا۔
وکیلِ درخواست گزار نے ایڈیشنل سیشن جج شیخوپورہ کے 10 اگست 2026 کو جاری حکم کو چیلنج کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا کہ درخواست گزار کو تقریباً ایک سالہ کمسن بچے کی تحویل دیتے ہوئے عدالت نے سات لاکھ روپے کے ضمانتی مچلکے جمع کرانے اور ہنگامی طبی ضرورت کے علاوہ بچے کو عدالت کی علاقائی حدود سے باہر نہ لے جانے کی شرائط عائد کیں، جو قانونی اختیار سے تجاوز کے مترادف ہیں۔ دوسری جانب جواب دہندہ کے وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ ایڈیشنل سیشن جج کی جانب سے عائد دونوں شرائط قانونی، جائز اور سیکشن 491 ضابطہ فوجداری کے دائرہ اختیار میں ہیں۔ جسٹس اسد علی باجوہ نے فیصلے میں قرار دیا کہ سیکشن 491 ضابطہ فوجداری کے تحت عدالت کا اختیار غیر معمولی اور ہنگامی نوعیت کا ہے ، کمسن بچے کی مستقل تحویل کا فیصلہ گارڈین کورٹ کے دائرہ اختیار میں آتا ہے ۔ بچے کو عدالت کی علاقائی حدود سے باہر لے جانے پر پابندی عائد کرنا سیکشن 491 کے محدود دائرہ اختیار سے تجاوز تھا۔ لاہور ہائیکورٹ نے ایڈیشنل سیشن جج شیخوپورہ کا حکم کالعدم قرار دے دیا۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments