پنشن ادائیگی صرف ڈیجیٹل نظام سے ہو گی ، ہر 6 ماہ بعد نادرا ایپ سے تصدیق لازمی

 پنشن ادائیگی صرف ڈیجیٹل نظام سے ہو گی ، ہر 6 ماہ بعد نادرا ایپ سے تصدیق لازمی

نادرا ایپ، مراکز، موبائل وین اور مجاز بینک شاخوں سے زندگی کی تصدیق کرائی جاسکے گی، مارچ، ستمبر کی مقررہ تاریخیں ختم چھ ماہ تک زندگی کا سگنل نہ ملنے پر پنشن کی منتقلی رک جائے گی، اکاؤنٹ بند نہیں ہوگا، تصدیق ملتے ہی بقایا رقم مل جائے گی

اسلام آباد (ایس ایم زمان، مدثر علی رانا)وفاقی پنشنرز کی پنشن کی ادائیگی اب مکمل ڈیجیٹل نظام کے تحت ہوگی جبکہ ہر 6 ماہ  (180 دن)میں کم از کم ایک بار زندگی کی تصدیق لازمی قرار دے دی گئی ہے ۔ بزرگ اور بیمار پنشنرز کیلئے متبادل نظام بھی متعارف کرایا گیا ہے ۔ وزارت خزانہ کے نوٹیفکیشن کے مطابق بینکوں کا زندگی کی تصدیق اور بائیومیٹرک کرنے کا کردار ختم کرکے نادرا کو براہ راست ذمہ داری سونپ دی گئی ہے ۔وزارت خزانہ کی جانب سے سٹیٹ بینک اور کنٹرولر جنرل آف اکاؤنٹس کو جاری مراسلے کے مطابق فیصلہ وزیراعظم کی ہدایت پر کیا گیا ہے ۔ نیا نظام وفاقی حکومت رسید و ادائیگی قواعد 2025 کے تحت بنایا گیا ہے اور تمام وفاقی سول ملازمین پر لاگو ہوگا۔ کمرشل بینک اب صرف پنشن کی ادائیگی کے ادارے ہوں گے ، وہ زندگی کے ثبوت، بائیومیٹرک ڈیٹا جمع کرنے یا تصدیق کے ذمہ دار نہیں ہوں گے اور پنشن اکاؤنٹ کو غیر فعال بھی نہیں کرسکیں گے ۔دستاویز کے مطابق نادرا کا نظام کنٹرولر جنرل آف اکاؤنٹس اور ملٹری اکاؤنٹنٹ جنرل کے نظام سے منسلک کردیا گیا ہے۔

پنشنر کی زندگی کا ڈیجیٹل سگنل براہ راست نادرا سے سی جی اے کو موصول ہوگا۔ کاغذی فارم کا معمول کا نظام ختم کردیا گیا ہے اور پنشن کی رقم براہ راست پنشنر کے اکاؤنٹ میں کریڈٹ ہوگی۔22 اگست 2026 کی وضاحت کے بعد پنشن اکاؤنٹ کو بینک عام قواعد کے تحت غیر فعال نہیں کرسکے گا۔ پنشنر کو ہر 180 دن میں کم از کم ایک مرتبہ زندگی کی تصدیق کرانا ہوگی۔ مارچ اور ستمبر کی مقررہ تاریخوں کی پابندی ختم کردی گئی ہے ۔نئے نظام کے تحت زندگی کی تصدیق کے تین طریقے ہوں گے ۔ پنشنر نادرا پاک آئی ڈی موبائل ایپ کے ذریعے گھر بیٹھے تصدیق کراسکیں گے ، نادرا مرکز، موبائل وین یا ای سہولت فرنچائز جاکر بھی تصدیق ممکن ہوگی۔ اس کے علاوہ نادرا کے مجاز مرکز کے طور پر کام کرنے والی بینک شاخ سے بھی تصدیق کرائی جاسکے گی۔ بیوہ یا خاندانی پنشن لینے والوں کو ازدواجی حیثیت سے متعلق فارم 12 بھی جمع کرانا ہوگا۔اگر کسی پنشنر سے 6 ماہ تک زندگی کا کوئی سگنل موصول نہ ہو تو پنشن کی منتقلی روک دی جائے گی اور اکاؤنٹ معطل حیثیت میں چلا جائے گا، تاہم اکاؤنٹ بند نہیں ہوگا۔ نادرا سے تصدیق کا سگنل موصول ہوتے ہی اکاؤنٹ خودکار طور پر بحال ہوجائے گا اور بقایا پنشن بھی ادا کردی جائے گی۔موبائل ایپ استعمال کرنے میں دشواری کا سامنا کرنے والے انتہائی عمر رسیدہ یا بیمار پنشنرز ضلعی اکاؤنٹس دفتر یا پنشن سہولت مرکز میں فارم 10 یعنی زندگی کا کاغذی سرٹیفکیٹ جمع کراسکیں گے۔

متعلقہ عملہ فارم کو مرکزی نظام میں درج کرے گا، جبکہ بینک یہ فارم قبول نہیں کرے گا۔نئے قواعد کے تحت بینک پنشنر کے نام پر صرف انفرادی اکاؤنٹ کھولیں گے ، مشترکہ اکاؤنٹ کی اجازت نہیں ہوگی۔ پنشن اکاؤنٹ پر کوئی فیس یا چارج عائد نہیں کیا جائے گا اور پنشنر کو بائیومیٹرک کیلئے مجبور نہیں کیا جاسکے گا۔ کاغذی دستاویز لے کر آنے والے پنشنر کو نادرا مرکز بھیجا جائے گا۔کنٹرولر جنرل آف اکاؤنٹس کو ہدایت کی گئی ہے کہ ہر ماہ 24 تاریخ تک پنشن رول تیار اور 26 تاریخ تک جانچ مکمل کرکے ادائیگی کی جائے ۔ 22 اگست 2026 سے قبل بینکوں کی جانب سے بند کیے گئے پنشن اکاؤنٹس بھی بحال کیے جائیں گے ۔ پنشنر نادرا مرکز سے تصدیق کراسکے گا یا ستمبر 2026 سے سی جی اے سے پنشن کی رقم موصول ہونے پر اکاؤنٹ خودکار طور پر فعال ہوجائے گا۔وزارت خزانہ کے مطابق نئے نظام کا مقصد پنشنرز کو سہولت فراہم کرنا، بینکوں کے غیرضروری چکروں سے نجات دلانا اور پنشن سے متعلق فراڈ کی روک تھام ہے۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

Comments / رائے دیں

Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.

Your comment will remain hidden until approved by admin.

Approved Comments

Loading comments...