پنجاب :33ڈی ایچ کیو ہسپتال،صرف2میں ایم آر آئی سہولت

پنجاب :33ڈی  ایچ  کیو  ہسپتال،صرف2میں  ایم  آر  آئی  سہولت

6ارب 23کروڑ کا منصوبہ مشروط منظور، ہسپتالوں اور مشینوں کی تعداد پر سرکاری دستاویز میں تضاد پی سی ون سے اہم تفصیلات غائب،تمام ہسپتالوں میں مشینیں نصب کی جارہیں :محکمہ منصوبہ بندی

لاہور (محمد حسن رضا سے )پنجاب میں تقریباً اڑھائی سالہ حکومتی مدت کے بعد محکمہ صحت نے اعتراف کیا ہے کہ صوبے کے 33ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹرز (ڈی ایچ کیو)ہسپتالوں میں سے صرف بہاولنگر اور شیخوپورہ کے ہسپتالوں میں ایم آر آئی کی سہولت موجود ہے ، جبکہ بیشتر ڈی ایچ کیو ہسپتال اس اہم تشخیصی سہولت سے محروم ہیں۔ ڈی ایچ کیو ہسپتالوں میں ایم آر آئی مشینوں کی فراہمی کیلئے 6 ارب 23 کروڑ 25  لاکھ 90 ہزار روپے کا منصوبہ صوبائی ترقیاتی ورکنگ پارٹی نے مشروط طور پر منظور کرلیا ہے ، جسے دسمبر 2027 تک مکمل کیا جائے گا۔روزنامہ دنیا کو موصول سرکاری دستاویز کے مطابق اٹک، بھکر، چکوال، چنیوٹ، حافظ آباد، جھنگ، جہلم، قصور، خانیوال، خوشاب، لیہ، لودھراں، منڈی بہاؤالدین، میانوالی، ملتان، مظفرگڑھ، ننکانہ صاحب، اوکاڑہ، پاکپتن، راجن پور، راولپنڈی، ٹوبہ ٹیک سنگھ اور وہاڑی کے ڈی ایچ کیو ہسپتالوں میں ایم آر آئی مشینیں فراہم کرنے کی تجویز دی گئی ہے ۔تاہم منصوبے کی دستاویز میں ہسپتالوں اور مشینوں کی تعداد کے حوالے سے واضح تضاد سامنے آیا ہے ۔ ابتدائی حصے میں 23 ڈی ایچ کیو ہسپتالوں کا ذکر ہے ، جبکہ اجلاس میں سیکرٹری پرائمری ہیلتھ اینڈ پاپولیشن نے 21 ڈی ایچ کیو ہسپتالوں میں ایم آر آئی سہولت قائم کرنے کی بات کی۔ مزید یہ بتایا گیا کہ لاہور، ملتان اور راولپنڈی کے ٹیچنگ ہسپتالوں میں ایم آر آئی کی سہولت پہلے سے موجود ہونے کے باعث ان اضلاع کے ڈی ایچ کیو ہسپتال منصوبے میں شامل نہیں ہوں گے ، مگر 23 اضلاع کی فہرست میں ملتان اور راولپنڈی کے نام شامل ہیں، جبکہ لاہور موجود نہیں۔ یوں منصوبے میں مشینوں اور ہسپتالوں کی حتمی تعداد واضح نہیں۔دستاویز کے مطابق منصوبے کے پی سی ون میں بھی کئی اہم معلومات موجود نہیں۔

اس میں یہ تفصیلات شامل نہیں کہ متعلقہ ہسپتالوں میں روزانہ یا ماہانہ کتنے مریضوں کو ایم آر آئی کی ضرورت پڑتی ہے ، کن بیماریوں کا بوجھ زیادہ ہے ، کتنے مریض دیگر ہسپتالوں کو ریفر کیے جاتے ہیں اور ایم آر آئی کیلئے انہیں کتنا انتظار کرنا پڑتا ہے ۔ اسی طرح ہسپتالوں کے انتخاب کیلئے استعمال کیے گئے اعداد و شمار اور مشینوں کی تنصیب کیلئے موجودہ انفراسٹرکچر کی مکمل تفصیلات بھی فراہم نہیں کی گئیں۔ریڈیالوجسٹس، ایم آر آئی ٹیکنالوجسٹس اور ٹیکنیشنز سمیت ضروری افرادی قوت کے منظور شدہ معیار کا بھی پی سی ون میں ذکر نہیں۔ سیکرٹری پرائمری ہیلتھ اینڈ پاپولیشن نے اجلاس میں مؤقف اختیار کیا کہ فی الحال اضافی عملے کی ضرورت نہیں ہوگی اور دستیاب ملازمین ہی کو ایم آر آئی مراکز پر تعینات کیا جائے گا۔منصوبے کے تحت ہر ضلع میں ایک ایم آر آئی مرکز قائم کرنے کا اصول اپنایا گیا ہے ، جبکہ جن اضلاع میں ایک سے زیادہ ڈی ایچ کیو ہسپتال ہیں وہاں صرف ایک ہسپتال کو مشین فراہم کی جائے گی۔ ایک ایم آر آئی مشین کی قیمت 8 لاکھ 50 ہزار ڈالر مقرر کی گئی ہے ۔صوبائی ترقیاتی ورکنگ پارٹی نے منصوبے کی منظوری کے ساتھ متعدد شرائط بھی عائد کی ہیں۔ محکمہ صحت کو مشینوں کی خریداری سے قبل 1.5 ٹیسلا ایم آر آئی مشینوں کی منظور شدہ تکنیکی خصوصیات جاری کرنا ہوں گی، جبکہ تعمیراتی کاموں کے تفصیلی تخمینے بھی پی سی ون میں شامل کرنا ہوں گے ۔ مشینوں کی خریداری پنجاب پروکیورمنٹ رولز کے مطابق کرنے کی ہدایت کی گئی ہے ۔دوسری جانب محکمہ منصوبہ بندی و ترقی کے حکام کا کہنا ہے کہ پنجاب کے تمام ڈی ایچ کیو ہسپتالوں میں ایم آر آئی مشینیں نصب کی جارہی ہیں۔ منصوبہ رواں مالی سال 2026-27 کے بجٹ میں شامل ہے اور اس کی مسلسل نگرانی بھی کی جائے گی۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

Comments / رائے دیں

Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.

Your comment will remain hidden until approved by admin.

Approved Comments

Loading comments...