ہائرسیکنڈری امتحانات میں نقل کرنیوالے 139طلبہ کی شناخت جاری
نوٹیفکیشنز میں بعض طلبہ کے پرچے منسوخ ، 8 ہزار تک جرمانہ جیسی سزائیں بھی درج شناخت ظاہر کرنے پرنظرثانی ہونی چاہیے ،طلبہ کوسماجی دباؤ ،بدنامی کا سامنا ہو سکتا :ماہرین
اسلام آباد (ماہتاب بشیر) فیڈرل بورڈ آف انٹرمیڈیٹ اینڈ سیکنڈری ایجوکیشن اسلام آباد کے زیر اہتمام ہائر سیکنڈری سکول سرٹیفکیٹ (ایچ ایس ایس سی) سالانہ امتحانات 2026 کے نتائج کے ساتھ ناجائز ذرائع (Unfair Means) استعمال کرنے کے الزام میں 139 طلبا و طالبات کے نام، رول نمبرز، والدین کے نام، جرمانوں اور تجویز کردہ سزاؤں کی تفصیلات بھی سرکاری نوٹیفکیشنز کے ذریعے جاری کر دی گئیں جس پر تعلیمی ماہرین، اساتذہ اور والدین نے تحفظات کا اظہار کیا ہے ۔وفاقی تعلیمی بورڈ کے کنٹرولر امتحانات عقیل عمران کی جانب سے جاری نوٹیفکیشنز میں ایچ ایس ایس سی پارٹ ون کے 103 جبکہ پارٹ ٹو کے 36 امیدواروں کے خلاف مختلف امتحانی بے ضابطگیوں اور ناجائز ذرائع کے استعمال کے کیسز کا ذکر ہے ۔ بعض طلبہ کے پرچے منسوخ کرنے ، 8 ہزار روپے تک جرمانہ عائد کرنے اور بعض کیسز میں آئندہ امتحان میں شرکت سے محروم کرنے جیسی سزائیں بھی درج ہیں۔تعلیمی ماہرین کا کہنا ہے کہ امتحانات میں نقل یا دیگر ناجائز ذرائع کے خلاف کارروائی امتحانی نظام کی شفافیت کے لیے ضروری ہے تاہم کم عمر یا نوجوان طلبہ کی شناخت مکمل نام، رول نمبر اور والد کے نام سمیت عوامی سطح پر جاری کرنا حساس معاملہ ہے ۔ ان کے مطابق سزا کے فیصلے کے ساتھ طلبہ کی شناخت عام کرنے کی ضرورت پر نظرثانی ہونی چاہیے کیونکہ ایسے نوٹیفکیشنز سوشل میڈیا پر گردش کرنے سے طلبہ کو سماجی دباؤ اور بدنامی کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے ۔ماہرین نفسیات کے مطابق امتحانی بے ضابطگی پر قانونی یا تعلیمی کارروائی اپنی جگہ لیکن کم عمر طلبہ کو عوامی سطح پر شناخت کرنا ان کی ذہنی صحت اور مستقبل پر منفی اثر ڈال سکتا ہے ۔ سماجی دباؤ کے نتیجے میں بعض طلبہ میں بے چینی، ذہنی دباؤ، خود اعتمادی میں کمی اور تعلیم سے دوری جیسے مسائل پیدا ہونے کا خدشہ رہتا ہے ۔والدین کا کہنا ہے کہ بچوں کے نام سرکاری طور پر جاری ہونے سے طالب علم اور اس کا خاندان سماجی دباؤ کا شکار ہو سکتا ہے ۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments