اسلام آباد میں گداگری کا خطرناک جال بچے نشے اور جنسی تشدد کا شکار

اسلام  آباد  میں  گداگری  کا خطرناک  جال  بچے  نشے اور جنسی  تشدد  کا شکار

گداگر بچوں میں انرجی ڈرنکس میں نشہ آور اشیا ملانے کا رجحان، 20سے 30فیصد ہائی رسک بچے جنسی تشدد کا شکار ہوئے کھنہ پل،ضیا مسجد اور شکریال میں 20سے 30خاندان گداگری میں ملوث،بچوں کوسعودیہ بھی بھیجاجاتا:سی پی آئی رپورٹ

اسلام آباد(حریم جدون)اسلام آباد میں بچوں سے گداگری محض بھیک مانگنے کی لت تک محدود نہیں رہی۔ اس نیٹ ورک میں شامل بچے ایک اہم سماجی مسئلہ بن گئے ہیں۔ ایک سرکاری رپورٹ میں سامنے آنے والے ہوشربا انکشافات نے صورتحال کی سنگینی مزید بڑھا دی ہے ۔ اس رپورٹ میں اعداد و شمار کے ساتھ بتایا گیا ہے کہ گداگری کے جال میں پھنسے بچے نشے کی لعنت کے ساتھ نہ صرف خود جنسی زیادتی اور مختلف اقسام کے استحصال کا شکار رہے بلکہ ان میں سے کئی بچے معاشرے کے دیگر بچوں کیلئے بھی خطرہ بن رہے ہیں۔چائلڈ پروٹیکشن انسٹی ٹیوٹ (سی پی آئی)کی رپورٹ کے مطابق اسلام آباد میں گداگری کے جرم میں لائے گئے 97 لڑکوں میں انرجی ڈرنکس اور دیگر مشروبات میں نشہ آور اشیاء ملا کر استعمال کرنے کا رجحان سامنے آیا جبکہ 137 گداگر لڑکیوں کے بھی نشے کی لت میں مبتلا ہونے کا انکشاف ہوا ہے ۔ رپورٹ کے مطابق گداگری میں ملوث 20 سے 30 فیصد ہائی رسک بچے جنسی ہراسانی، تشدد اور زیادتی کا شکار ہوئے ۔ طویل عرصے تک نشے ، تشدد اور استحصال کا سامنا کرنے کے باعث بعض بچے شدید نفسیاتی مسائل اور غیر اخلاقی رویوں کا شکار ہونے لگے ۔

سی پی آئی کی رپورٹ میں ایک نوعمر گداگر بچے کا کیس بھی سامنے لایا گیا ہے جو خود جنسی تشدد کا شکار رہا اور بعد ازاں اپنے ہی چھوٹے بہن بھائیوں کیلئے خطرہ بن گیا، جو اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ گداگر بچوں کو صرف سڑکوں سے ہٹانا کافی نہیں، بلکہ انہیں محفوظ ماحول، تعلیم، نفسیاتی معاونت اور مناسب تربیت فراہم کرتے ہوئے مکمل بحالی کے عمل سے گزارنا ضروری ہے ۔رپورٹ کے مطابق اسلام آباد کے کھنہ پل، ضیا مسجد اور شکریال کے علاقوں میں 20 سے 30 خاندان منظم گداگری میں ملوث ہیں۔ ان خاندانوں کی جانب سے بچوں کو پاکستان کے مختلف علاقوں کے علاوہ سعودی عرب تک بھیک مانگنے کیلئے بھیجنے کا انکشاف ہوا ہے ۔ سی پی آئی کے مطابق گداگری کی روک تھام کیلئے کارروائیوں کے دوران بچوں کو ریسکیو تو کرلیا جاتا ہے تاہم جامع بحالی کا نظام موجود نہ ہونے کے باعث بیشتربچے دوبارہ سڑکوں پر پہنچ جاتے ہیں اور گداگری، نشے اوراستحصال کے اسی چکر میں پھنس جاتے ہیں۔رپورٹ میں اس معاشرتی مسئلے کے حل کیلئے سفارشات بھی دی گئی ہیں کہ صرف گداگروں کے خلاف آپریشن اور گرفتاریوں سے مسئلے کا مستقل حل ممکن نہیں۔ گداگر بچوں کیلئے الگ اور مخصوص بحالی مرکز قائم کرنے کے ساتھ ساتھ متعلقہ اداروں کے درمیان موثر رابطہ اور بچوں کی مسلسل نگرانی کا نظام بھی ضروری ہے ۔ ماہرین کے مطابق سڑکوں پر بھیک مانگتا بچہ صرف گداگر نہیں بلکہ ممکنہ طور پر استحصال، نشے ، تشدد اور جرائم کے ایک پورے نظام کا شکار ہو سکتا ہے ، جس سے نمٹنے کیلئے محض آپریشن کے بجائے طویل المدتی بحالی اور تحفظ کی پالیسی ناگزیر ہے ۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

Comments / رائے دیں

Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.

Your comment will remain hidden until approved by admin.

Approved Comments

Loading comments...