کچہری خودکش حملہ معاوضہ عدم ادائیگی، جے ایس ریکارڈ سمیت طلب
بگھی پر بیٹھنے کے پیسے ہیں لیکن شہیدوں کو دینے کیلئے نہیں:وکیل درخواست گزار اسی لئے سیکرٹری داخلہ کو بلا رہے تھے :جسٹس ارباب محمد، سماعت15ستمبر تک ملتوی
اسلام آباد (رضوان قاضی) اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس ارباب محمد طاہر نے ضلع کچہری جی الیون خودکش حملہ کے متاثرین کو معاوضہ کی ادائیگی کے کیس میں ڈپٹی کمشنر آفس کی جانب سے فنڈز دستیاب نہ ہونے اور معاوضے کے لیے الگ بجٹ مختص نہ ہونے سے متعلق آگاہ کیے جانے پر وزارت داخلہ کے جوائنٹ سیکرٹری ایڈمن آئی سی ٹی کو تمام متعلقہ ریکارڈ سمیت طلب کرلیا۔ جسٹس ارباب محمد طاہر نے استفسار کیاکہ اس کیس میں کیا ہوا۔ وکیل درخواست گزار نے کہاکہ ڈی سی کا دوبارہ جواب آیا کہ فنڈز نہیں، ڈپٹی کمشنر کا جواب عدالت میں پیش کیاگیا جس میں فنڈز فوری جاری کرنے کی درخواست کی گئی۔ خط میں بتایاگیاکہ رواں سال ترلائی امام بارگاہ دھماکے کے متاثرین کو معاوضہ ادا کیا گیا۔ جسٹس ارباب محمد طاہر نے ریمارکس دیئے کہ یہ اچھا ہوگیا، ایک ہی آفس بن گیا سب کام ایک ہی جگہ ہونگے ،یہ تو ترلائی امام بارگاہ کا بتا رہے ہیں۔ وکیل نے آئی جی اور چیف کمشنر کے بگھی میں بیٹھنے کا معاملہ اٹھا دیااور کہاکہ بگھی پر بیٹھنے کے پیسے ہیں لیکن شہیدوں کو دینے کیلئے نہیں۔ جسٹس ارباب محمد طاہر نے کہاکہ اسی لئے ہم سیکرٹری داخلہ کو بلا رہے تھے ۔ عدالت نے سماعت 15ستمبر تک ملتوی کر دی۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments