نئے صوبے ضروری : سردار یوسف، نہ بنائے تو انارکی : علی درانی
چھوٹے انتظامی یونٹس سے بہتر گورننس ممکن ہے :گل اصغر ،شہزادہ گُشتاسپ خان چترال ،ملاکنڈ کو بھی الگ صوبے بنانا چاہئیں ، طلحہ محمود،قومی مباحثے سے خطاب
اسلام آباد (نامہ نگار) مسلم لیگ (ن)، استحکام پاکستان پارٹی، پیپلزپارٹی، ایم کیو ایم، پی ٹی آئی سمیت دیگر قومی سیاسی جماعتوں نے ملک میں نئے صوبوں کے قیام کا مطالبہ کرتے ہوئے حکومت پر اس حوالے سے عملی اقدامات شروع کرنے پر زور دیا ہے ۔ مقررین نے کہا کہ بہتر گورننس اور عوام کو سہولیات کی فراہمی کے لیے چھوٹے انتظامی یونٹس ضروری ہیں، نئے صوبے نہ بنائے گئے تو ملک میں انارکی پھیل سکتی ہے ۔ صوبوں اور انتظامی یونٹس سے متعلق قومی مباحثے سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر مذہبی امور سردار محمد یوسف نے کہا کہ پورے ملک سے چھوٹے یونٹس اور نئے صوبے بنانے کی آواز اٹھ رہی ہے ۔ نئے صوبے اشد ضرورت ہیں اور یہ معاملہ اب باضابطہ طور پر زیر بحث آنا چاہیے ۔ اختیارات کے ساتھ چھوٹے یونٹس بننے سے عوام کو سہولت ملے گی۔ تمام سیاسی جماعتیں صوبہ ہزارہ کے مطالبے پر متفق ہیں۔
سابق وفاقی وزیر محمد علی درانی نے کہا کہ صوبوں کا قیام پاکستان کی ضرورت ہے ۔ صوبائی اسمبلیوں نے متفقہ قراردادیں منظور کر رکھی ہیں، اس کے باوجود اس معاملے کو روکا جا رہا ہے ۔ اگر نئے صوبے نہ بنائے گئے تو ملک میں انارکی پھیلے گی۔ منظور شدہ قرارداد ختم کرنے کے لیے اس کے خلاف نئی قرارداد منظور کرنا ہوگی۔سینیٹر طلحہ محمود نے کہا کہ وہ 2010 میں سینیٹ میں صوبہ ہزارہ کے قیام کے لیے آواز بلند کر چکے ہیں۔ چترال اورملاکنڈ کو بھی الگ صوبے بنانا چاہئیں ۔تحریک انصاف کے ایم این اے شہزادہ گُشتاسپ خان نے کہا کہ صوبے کا مطالبہ نفرت کی بنیاد پر نہیں بلکہ بہتر گورننس کے لیے انتظامی ضرورت ہے ۔ جتنا چھوٹا یونٹ ہوگا، اتنا ہی بہتر انداز میں اسے چلایا جا سکے گا۔استحکام پاکستان پارٹی کے رہنما گل اصغر خان نے کہا کہ نئے صوبے بہت پہلے بن جانے چاہئیں تھے اور اب بھی دیر نہیں ہوئی۔ انتظامی یونٹس بننے سے کوئی نقصان نہیں، اس لیے جتنی جلدی ممکن ہو نئے صوبے بنائے جائیں۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments