ٹرمپ کا سعودی عرب کی مدد سے انکار:ولی عہد محمد بن سلمان کا دوبار امریکی صدر کو فون حوثی جنگجوؤں کیخلاف فضائی حملوں کی درخواست صرف انٹیلی جنس معلومات فراہم کرنے کا وعدہ ملا
حوثیوں کا بحیرہ احمر کے تمام ساحلی علاقوں ،آبنائے باب المندب کے اہم جزیروں پر قبضہ،عراق سے سعودی پائپ لائن پر ڈرون حملہ،سپلائی عارضی معطل،سربراہ امریکی سینٹرل کمانڈ ہنگامی اجلاس کیلئے ریاض پہنچ گئے غیرجنگی معاونت کیلئے 200امریکی فوجی پہلے ہی سعودی عرب میں موجود، ہرمز سے گزرنے والے جہازوں کی تعداد 7رہ گئی،محفوظ راستے کیلئے ایران،عراق،خلیجی عرب ممالک کے نمائندوں کی پیر کو عمان میں ملاقات
واشنگٹن،ریاض (نیوز ایجنسیاں )امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کی یمن میں حوثی جنگجوؤں کے خلاف فضائی حملوں کی درخواست مسترد کردی۔ یہ انکشاف امریکی نیوز ویب سائٹ ایکسیوس نے اپنی رپورٹ میں کیا ۔جبکہ حوثیوں نے یمن میں بحیرہ احمر کے تمام ساحلی علاقے کو کنٹرول کر لیا جس سے سعودی عرب کے متبادل تجارتی راستے باب المندب کے گرد حوثیوں کی گرفت مضبوط ہو گئی ہے ۔خبر رساں ادارے نے دو امریکی عہدیداروں کے حوالے سے بتایا کہ سعودی ولی عہد نے جمعرات کو ٹرمپ سے ٹیلی فون پر رابطہ کیا اور یمن میں بگڑتی ہوئی فوجی صورتِ حال سے آگاہ کیا جب حوثی فورسز ساحلی شہر المخا کی جانب پیش قدمی کر رہی تھیں۔رپورٹ کے مطابق ولی عہد نے چند گھنٹے بعد دوبارہ ٹرمپ سے رابطہ کیا اور حوثیوں کے خلاف امریکی فضائی حملوں کی درخواست کی، تاہم امریکی صدر نے یہ درخواست مسترد کردی۔ ایکسیوس کے مطابق واشنگٹن سعودی عرب کو حوثیوں سے متعلق انٹیلی جنس اور اہداف کے بارے میں معلومات فراہم کرے گا۔ ایک امریکی عہدیدار کے مطابق 200 سے زائد امریکی فوجی پہلے ہی سعودی عرب میں موجود ہیں اور ‘‘غیر جنگی معاونت’’ فراہم کر رہے ہیں۔
دوسری جانب ایران کی حمایت یافتہ یمنی حوثی ملیشیا نے ملک کے بحیرۂ احمر سے متصل پورے ساحلی علاقے پر کنٹرول حاصل کرلیا ہے ۔ بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ یمنی حکومت کے ایک فوجی عہدیدار نے جمعے کو اے ایف پی کو بتایا کہ اس پیش رفت کے بعد حوثیوں کا اس انتہائی اہم آبی گزرگاہ پر کنٹرول مزید مستحکم ہوگیا ہے ۔عہدیدار کے مطابق حکومت کے زیرِ کنٹرول ‘‘مغربی ساحل کا تمام علاقہ حوثیوں کے قبضے میں جاچکا ہے ’’۔حوثیوں نے باب المندب آبنائے میں واقع اہم جزیرے میون اور ہنیش کے بڑے اور چھوٹے جزیروں پر بھی قبضہ کرلیا ہے ۔ یہ کارروائی ایسے وقت میں کی گئی ہے جب حوثی سعودی عرب کی تیل برآمدات کا راستہ محدود کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔جمعے کو بین الاقوامی سطح پر خام تیل کی اہم قیمت، برینٹ نارتھ سی کروڈ، اور امریکی خام تیل ڈبلیو ٹی آئی، دونوں کی قیمتیں 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کرگئیں۔ایکسیوس کے مطابق امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹ کام) کے سربراہ بریڈ کوپر نے جمعرات کو ہنگامی رابطہ اجلاسوں کے لیے سعودی عرب کا دورہ کیا۔ ایکسیوس کے مطابق ایران کی جانب سے پہلے ہی آبنائے ہرمز میں نقل و حمل کو متاثر کرنے کے بعد، باب المندب پر حوثیوں کا قبضہ تہران کو امریکا اور اس کے خلیجی اتحادیوں پر دباؤ ڈالنے کا ایک نیا اور مضبوط موقع فراہم کر سکتا ہے ۔
سعودی عرب نے کہا ہے کہ عراق سے لانچ کیے گئے ڈرونز نے اس کی مشرقی-مغربی تیل پائپ لائن کو نشانہ بنایا، تاہم عراقی وزیر اعظم کی درخواست پر اس نے فی الحال جوابی کارروائی نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے ۔سعودی وزارتِ توانائی نے ریاض اور مدینہ کے علاقوں میں پائپ لائن پر ہونے والے متعدد حملوں کے بعد ایسٹ ویسٹ آئل پائپ لائن عارضی طورپر بند کرنے کا اعلان کیا ہے ۔سعودی عرب کی طرف سے براہ راست امریکی فوجی کارروائی کا مطالبہ جولائی کے موقف سے بالکل مختلف ہے ، جب ریاض نے واشنگٹن کو بتایا تھا کہ وہ حوثیوں سے خود نمٹ سکتا ہے ۔ تاہم، جیسے جیسے لڑائی میں شدت آتی گئی، سعودیوں نے امریکی مدد کی درخواستوں میں اضافہ کرنا شروع کر دیا۔ امریکی فوجی اور سویلین حکام نے حالیہ ہفتوں میں اپنے سعودی ہم منصبوں کو بتایا ہے کہ صدر ٹرمپ کی ہدایت کے مطابق امریکی افواج کی تمام تر توجہ ایران اور آبنائے ہرمز پر مرکوز رہنی چاہیے اور ایک نیا محاذ کھولنے سے گریز کیا جائے ۔ادھر آبنائے ہرمز سے گزرنے والے ریکارڈ شدہ بحری جہازوں کی تعداد گزشتہ روز کے 11 کے مقابلے میں کم ہو کر 7رہ گئی، یہ تعداد گزشتہ 10 دن کی اوسط 10 سے بھی خاصی کم ہے ۔ایران نے جمعہ کو تصدیق کی کہ اس کے نمائندے عراق اور خلیجی عرب ممالک کے نمائندوں کے ساتھ پیر کو عمان میں ملاقات کریں گے تاکہ آبنائے ہرمز میں محفوظ تجارتی بحری راستوں سے متعلق مذاکرات دوبارہ شروع کیے جا سکیں۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments