اسلام آباد کا موجودہ علاقہ ہی ایڈمنسٹریٹو یونٹ یا صوبہ بنے گا
دوسرے فیز میں ملحقہ علاقے شامل ہونگے ،امن و امان اور ماسٹر پلاننگ وفاق وفاق گورنر تعینات کرسکتا ، نئے قوانین کا مسودہ، عبوری کمیٹی بھی بنے گی انتظامی ڈھانچے کیلئے وفاق سے اختیارات کی منتقلی کی سفارشات تیار کرلی گئیں
اسلام آباد (مدثر علی رانا) اسلام آباد کو الگ ایڈمنسٹریٹو یونٹ بنانے کی صورت میں موجودہ وفاقی دارالحکومت علاقہ ہی ممکنہ طور پر نئے یونٹ یا صوبے کی حدود قرار دیا جائے گا، جبکہ دوسرے مرحلے میں ملحقہ علاقوں کو شامل کیا جاسکے گا۔ اس کیلئے پنجاب کی حدود میں تبدیلی اور باقاعدہ حد بندی ضروری ہوگی کیونکہ صوبائی اسمبلی کی منظوری کے بغیر صوبائی علاقوں کو نئے انتظامی یونٹ میں شامل نہیں کیا جاسکتا۔ذرائع وزارت منصوبہ بندی کے مطابق نئے انتظامی یونٹ کی حدود اور اختیارات کا حتمی فیصلہ آئینی و قانونی طریقہ کار کے مطابق ہوگا۔ اسلام آباد کے انتظامی ڈھانچے کیلئے وفاق سے اختیارات مقامی حکومت کو منتقل کرنے کی سفارشات تیار کرلی گئی ہیں۔ وزیراعظم کی تشکیل کردہ خصوصی ذیلی کمیٹی نے اسلام آباد کو وسیع مقامی خودمختاری دینے اور وفاق کے بیشتر اختیارات منتخب حکومت کو منتقل کرنے کی تجویز دی ہے ۔
دستاویز کے مطابق اسلام آباد میں 27 رکنی منتخب قانون ساز اسمبلی قائم کی جائے گی جسے آئی سی ٹی اسمبلی کہا جائے گا۔ اس میں 21 عام، 5 خواتین کی مخصوص اور ایک اقلیتی نشست ہوگی۔ ہر قومی اسمبلی کے حلقے سے 7 ارکان منتخب ہوں گے ۔ انتخابات الیکشن کمیشن کرائے گا جبکہ ارکان کیلئے آئین کے آرٹیکل 62 اور 63 کی شرائط لاگو ہوں گی۔ اسمبلی اپنے ارکان میں سے ایک قائد منتخب کرے گی جسے وزیراعلیٰ یا میئر کہا جائے گا اور وہ نئی اسلام آباد حکومت کا سربراہ ہوگا۔نئے نظام کے تحت وفاق کے پاس صرف امن و امان اور ماسٹر پلاننگ کے شعبے رہیں گے ، جبکہ تعلیم، صحت، ماحولیات، توانائی، خوراک، زراعت، جنگلات، مواصلات، خزانہ، لینڈ ریونیو اور مقامی حکومت سمیت دیگر تمام محکمے نئی حکومت کے ماتحت ہوں گے ۔ ضرورت پڑنے پر وفاق اسلام آباد کیلئے گورنر بھی تعینات کرسکے گا۔ کیپٹل ڈویلپمنٹ اتھارٹی کے بیشتر اختیارات بھی نئی حکومت کو منتقل ہوں گے ، تاہم ماسٹر پلاننگ وفاق کے پاس رہے گی۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments