نئے صوبے : پارلیمنٹ میں بحث کے اعلان پر کچھ حلقے مطمئن نہیں
ریفرنڈم کے اشارے ، ضیا الحق، مشرف جیسے ریفرنڈم سے بات نہیں بنے گی
(تجزیہ: سلمان غنی)
حکومت کی جانب سے نئے صوبوں کے ایشو پر اکتوبر میں پارلیمنٹ میں بحث کرائے جانے کے اعلان پر نئے صوبوں کیلئے سرگرم بعض حلقے مطمئن نظر نہیں آ رہے اور اسے بعض سیاسی قوتوں کی جانب سے تاخیری حربہ قرار دے رہے ہیں۔ ان کا مؤقف ہے کہ اس معاملے میں تاخیر اس کی اہمیت اور حیثیت کو متاثر کرے گی۔ یہی وجہ ہے کہ نئے صوبوں یا انتظامی یونٹس کیلئے سرگرم قوتیں پارلیمنٹ کے ساتھ ساتھ ریفرنڈم کے آپشن پر بھی غور کر رہی ہیں اور قانونی ماہرین سے مشاورت جاری ہے ۔دوسری جانب گورننس کے ماہرین کا کہنا ہے کہ نئے صوبوں کا معاملہ انتہائی سنجیدہ ہے ، اس کیلئے صرف آئینی راستہ اختیار یا جائے اور کوئی نیا پنڈورا بکس کھولنے سے گریز کیا جائے ۔ آئینی طریقہ کار کے تحت نئے صوبے کیلئے متعلقہ اسمبلی سے دوتہائی اکثریت کے ساتھ قرارداد منظور ہونا ضروری ہے ۔ پیپلزپارٹی نئے صوبوں کا راستہ روکنے کیلئے سندھ اسمبلی میں پہلے ہی قرارداد منظور کرا چکی ہے ۔ سندھ اسمبلی کے اس طرزعمل کے بعد پنجاب کیلئے بھی یہ سوال اٹھ رہا ہے کہ اگر سندھ تیار نہیں تو پنجاب کی تقسیم کا کیا جواز ہے ۔
مسلم لیگ ن کے رہنما رانا ثنا اللہ پنجاب اسمبلی سے بہاولپور اور جنوبی پنجاب کے حوالے سے منظور قراردادوں کو دس سال پرانا قرار دیتے ہوئے کہہ چکے ہیں کہ وہ محض سفارش تھیں۔ تاہم بنیادی سوال یہ ہے کہ آج نئے صوبوں اور انتظامی یونٹس کی بات کیوں ہو رہی ہے ؟ اس کی بڑی وجہ خود نظام کا ڈلیور نہ کرنا، بڑھتے عوامی مسائل اور خصوصاً گورننس کا بحران ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ ہر سطح پر پاکستان کے طرز حکمرانی میں آئینی اصلاح کی ضرورت محسوس کی جا رہی ہے ۔آئین کے آرٹیکل 48 میں کسی اہم معاملے پر عوام کی رائے حاصل کرنے کیلئے ان سے رجوع کرنے کی گنجائش موجود ہے ۔ اس حوالے سے حکومتی ذمہ داران، خصوصاً وزیر داخلہ محسن نقوی کی جانب سے بھی اشارے سامنے آ رہے ہیں۔ اس شق کے تحت صدر مملکت وزیراعظم کے مشورے اور پارلیمنٹ کی منظوری سے عوام سے رائے طلب کرسکتے ہیں، لیکن اگر صوبوں کی مرضی کے بغیر ریفرنڈم کرانے کی کوشش کی گئی تو اس کے نتائج جنرل ضیا الحق اور جنرل مشرف کے ریفرنڈم سے مختلف نہیں ہوں گے اور بات نہیں بن سکے گی۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments