پنجاب : 23 لاکھ گاڑیوں کے فٹنس، ایمیشن ٹیسٹ لازمی قرار، 15 اکتوبر سے کارروائی
فٹنس سرٹیفکیٹ حاصل کرنے کیلئے مالکان کوگاڑی کی نوعیت کے مطابق 500سے 2ہزار روپے تک فیس ادا کرنا ہوگی فٹنس ٹیسٹ کی ذمہ داری پنجاب ٹرانسپورٹ اتھارٹی نے سنبھال لی،انسپیکشن سینٹرز تاحال مکمل فعال نہ ہوسکے :ذرائع
لاہور(شیخ زین العابدین )پٹرول کی بڑھتی قیمتوں کے بعد پنجاب کے شہریوں پر گاڑی چلانے کا ایک اور مالی بوجھ ڈالنے کی تیاری ، صوبے میں 23 لاکھ گاڑیوں کے فٹنس اور ایمیشن ٹیسٹ لازمی قرار دے دیئے گئے ،گاڑی کا فٹنس سرٹیفکیٹ حاصل کرنے کیلئے مالکان کو 500 سے 2 ہزار روپے تک فیس ادا کرنا ہوگی، بغیر سرٹیفکیٹ گاڑی چلانے والوں کے خلاف 15 اکتوبر سے کارروائی شروع کرنے کا اعلان کردیا گیا،نئے نظام کے تحت فٹنس ٹیسٹ کی ذمہ داری پنجاب ٹرانسپورٹ اتھارٹی نے سنبھال لی، ٹیسٹنگ کا عمل نجی شعبے کے ذریعے کرانے اور پنجاب بھر میں وہیکل انسپیکشن اینڈ سرٹیفکیشن سینٹرز قائم کرنے کا منصوبہ بنایا گیا ہے۔
ذرائع کے مطابق پنجاب میں سموگ کے سیزن سے قبل گاڑیوں کی فٹنس اور آلودگی کے اخراج کی جانچ کا نیا مرحلہ شروع ہونے جا رہا ہے ، جس کے تحت 23 لاکھ گاڑیوں کے مالکان کو اپنی گاڑیوں کا فٹنس اور ایمیشن ٹیسٹ کرانا ہوگا۔پرائیویٹ گاڑیوں کے فٹنس اور ایمیشن ٹیسٹ کیلئے گاڑی کی نوعیت کے حساب سے 500 سے 2 ہزار روپے تک فیس وصول کی جائے گی، یعنی فٹنس سرٹیفکیٹ کے حصول کے لیے ہر گاڑی مالک کو اپنی جیب سے مقررہ فیس ادا کرنا ہوگی،نئے انتظام کے تحت پنجاب ٹرانسپورٹ اتھارٹی کو فٹنس ٹیسٹنگ کا اختیار دے دیا گیا ہے جبکہ ٹیسٹ کا عملی نظام نجی شعبے کے تعاون سے چلانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
منصوبے کے مطابق پنجاب بھر میں وہیکل انسپیکشن اینڈ سرٹیفکیشن سینٹرز قائم کیے جائیں گے ، جہاں گاڑیوں کی فٹنس کے ساتھ ایمیشن ٹیسٹ بھی کیا جائے گا۔گزشتہ برس سموگ سے قبل گاڑیوں کے ایمیشن ٹیسٹ کی ذمہ داری محکمہ ماحولیات کے پاس تھی تاہم اب یہ اختیار پنجاب ٹرانسپورٹ اتھارٹی کو منتقل کردیا گیا ہے ۔حکام نے واضح کیا ہے کہ 15 اکتوبر سے فٹنس سرٹیفکیٹ کے بغیر گاڑیوں کے خلاف کارروائی شروع کردی جائے گی، دوسری جانب 15 اکتوبر کی ڈیڈ لائن قریب آنے کے باوجود پنجاب بھر میں وہیکل انسپیکشن اینڈ سرٹیفکیشن سینٹرز کا نیا نظام تاحال مکمل طور پر فعال نہیں ہوسکا،یوں ایک طرف 23 لاکھ گاڑیوں کیلئے فٹنس ٹیسٹ لازمی قرار دے کر ڈیڈ لائن مقرر کردی گئی ہے تو دوسری طرف ٹیسٹنگ کیلئے درکار سینٹرز کا نظام ابھی تک تکمیل کا منتظر ہے ، نئے انتظام کے تحت گاڑیوں کے مالکان کو فٹنس اور ایمیشن ٹیسٹ کی فیس بھی ادا کرنا ہوگی۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments