پٹرول ریلیف پیکیج پر 75فیصد عملدرآمد بھی بڑی کامیابی

پٹرول ریلیف پیکیج پر 75فیصد عملدرآمد بھی بڑی کامیابی

مزید اقدامات ضروری ،مہنگائی خاتمے کیلئے حکومتی اخراجات میں کمی ناگزیر

(تجزیہ :سلمان غنی )

وزیراعظم شہباز شریف کی جانب سے خلیج میں جاری کشیدگی کے باعث پٹرولیم کی قیمتوں کے بحران اور اس کے عوام پر پڑنے والے اثرات کا نوٹس لیا گیا ہے ۔ اس کے تحت موٹر سائیکل، رکشہ، چنگچی اور 800 سی سی تک کی گاڑیوں کے لیے پٹرول پر فی لٹر 100 روپے کی رعایت دی گئی ہے ، جس سے تقریباً 3 ہزار روپے تک کا فائدہ مل سکے گا۔ اس اقدام کا آغاز آج رات سے اسلام آباد جبکہ منگل اور بدھ کی رات سے آزاد کشمیر، گلگت بلتستان سمیت ملک بھر میں ہوگا۔یہ ریلیف پیکیج ایک ہدفی اور قلیل مدتی اقدام ہے جس سے عوام کو کسی حد تک ریلیف مل سکتا ہے ، تاہم حکومت کو مزید اقدامات پر بھی غور کرنا  ہوگا۔ اصل سوال یہ ہے کہ اس اقدام سے عوامی سطح پر اطمینان حاصل ہوگا یا نہیں، ریلیف پر مؤثر عملدرآمد ممکن ہوگا یا نہیں اور موجودہ بحرانی کیفیت کب تک جاری رہے گی۔بلاشبہ خلیج میں جاری کشیدگی سے عالمی منڈی میں پٹرولیم کی قیمتوں میں اضافے کے براہ راست اثرات پاکستان پر پڑے ہیں اور ملک بھر میں مسائل زدہ عوام میں تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے ۔ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کے اثرات روزمرہ ضروریات سمیت ہر شعبے پر نظر آ رہے ہیں، جس کے باعث حکومت پر دباؤ بڑھ گیا ہے۔

حکومت پہلے ہی معاشی بحران سے دوچار ہے اور عالمی مالیاتی ادارے کی شرائط کی پابند ہونے کے باعث اس کے لیے عوام کو ریلیف دینا بھی ایک مشکل مرحلہ ہے ۔ریلیف پیکیج کا اصل چیلنج اس کی روح کے مطابق عملدرآمد ہوگا، جس میں صوبائی حکومتوں کا کردار اہم ہے ۔ وفاقی حکومت کو بھی اس عمل کی نگرانی کرنا ہوگی۔ اگرپیکیج پر 75 فیصد بھی مؤثر انداز میں عملدرآمد ہوگیا تو اسے حکومت کی بڑی کامیابی قرار دیا جا سکتا ہے ۔پٹرولیم لیوی میں کمی کے لیے جماعت اسلامی بھی مسلسل دباؤ ڈال رہی ہے ۔ جماعت اسلامی کے امیر نعیم الرحمن نے 100 روپے فی لٹر ریلیف کو اپنے دباؤ کا اثر قرار دیتے ہوئے اسے ناکافی قرار دیا اور تحریک جاری رکھنے کا اعلان کیا ہے ۔ وہ 20 ستمبر کی کال پر بھی قائم ہیں جبکہ حکومت اور جماعت اسلامی کے درمیان مذاکرات کا اگلا دور منگل کو ہونے جا رہا ہے ۔ جماعت اسلامی نے لیوی کے بغیر حکومت کو آمدن بڑھانے کے لیے چھ تجاویز بھی دے رکھی ہیں، جن پر حکومت نے غور کی یقین دہانی کرائی ہے ، تاہم معاملہ آگے بڑھتا نظر نہیں آ رہا۔دوسری جانب حکومت پر تحریک انصاف کا دباؤ بھی ہے اور وہ لانگ مارچ کے حوالے سے سرگرم ہے ۔ حکومت مزید محاذ نہیں کھولنا چاہتی جبکہ پاکستان پیپلز پارٹی کے ساتھ اختلافات کے خاتمے کے لیے بھی کوششیں جاری ہیں۔موجودہ صورتحال میں خلیجی بحران کا تناؤ کم ہوتا نظر نہیں آ رہا، لہٰذا حکومت کو پٹرولیم بحران کے لیے فوری اور مربوط پالیسی بنانا ہوگی اورمہنگائی کے خاتمے کیلئے حکومتی اخراجات میں کمی کرنا ہو گی ۔وزیراعظم شہباز شریف کے ریلیف پیکیج کی اہمیت اپنی جگہ لیکن حکومت کو مہنگائی کے توڑ اور عوام کے لیے مزید اقدامات کرنا ہوں گے ۔ حکومت کو اپنی ترجیحات میں مہنگائی زدہ عوام کو سرفہرست رکھتے ہوئے خود کو جوابدہ بنانا ہوگا۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

Comments / رائے دیں

Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.

Your comment will remain hidden until approved by admin.

Approved Comments

Loading comments...