برآمد کیلئے مختص مقدارنہ ہونے کے برابر،شوگر ایڈوائزری بورڈ

 برآمد کیلئے مختص مقدارنہ ہونے  کے برابر،شوگر ایڈوائزری بورڈ

لاہور (اپنے سٹی رپورٹر سے )شوگر ایڈوائزری بورڈ کی میٹنگ میں انڈسٹری کے تمام ممبران شریک ہوئے ۔ اس بات پر تشویش کا اظہار کیا گیا کہ وزارت نیشنل فوڈ سکیورٹی نے شوگر ملوں کے اعداد وشمار کو یکسرنظر انداز کر دیا۔۔

 اور اُنکا موقف نہیں سنا گیا۔ شوگر ملزممبران نے حکومت کے دو لاکھ میٹرک ٹن چینی برآمد کے فیصلے کو مسترد کر تے کہا ملک میں تقریباََ 26 لاکھ میٹرک ٹن سے زائد چینی کا سٹاک موجود ہے ۔ چینی کی ماہانہ اوسط کھپت 5 لاکھ، 60 ہزار ٹن ہے جبکہ باقی ڈھائی ماہ (یعنی 15 نومبر تک)کیلئے ملکی ضروریات پوری کرنے کیلئے تقریباًٍ14 لاکھ میٹرک ٹن چینی درکار ہو گی۔ اس طرح اگلے کرشنگ سیزن 27-2026کے آغاز پر ملک میں تقریباً ساڑھے 12 لاکھ میٹرک ٹن چینی اضافی ہو گی، جسکی برآمدی مالیت کا تخمینہ بین الاقوامی منڈی کے موجودہ نرخوں کے مطابق 60 سے 70 کروڑ امریکی ڈالر لگایا گیا ہے ۔ مزید برآں 27-2026 کے کرشنگ سیزن میں گنے کی ایک اور ریکارڈ فصل متوقع ہے جسکے مطابق چینی کی پیداوار کا تخمینہ 80 لاکھ ٹن سے زائد لگایا گیا ہے ۔ تمام شرکاکی رائے تھی کہ حکومت کی جانب سے برآمد کیلئے مختص کردہ مقدارنہ ہونے کے برابر ہے ۔ حکومت کو کم از کم 10 لاکھ میٹرک ٹن چینی کی برآمد کی فوری اجازت دینی چاہیے تاکہ کسانوں اور شوگر انڈسٹری کو تباہی سے بچایا جا سکے ۔ حکومت کے اس فیصلے سے نا صرف گنے کے کاشتکار اور انڈسٹری متاثر ہو گی بلکہ ملک کثیر زرِمبادلہ سے بھی محروم ہو جائے گا۔ممبران کی رائے تھی کہ حکومت نے ایف بی آر کے پورٹلز بند کرائے تا کہ درآمد شدہ چینی کو فروخت کیا جاسکے ۔ ممبران نے گنے کی طرح شوگر انڈسٹری کو مکمل طور پر ڈی ریگولیٹ کرنے کا مطالبہ بھی کیا۔

 

 

 

 

 

 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

Comments / رائے دیں

Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.

Your comment will remain hidden until approved by admin.

Approved Comments

Loading comments...