بلا تفریق انصاف ہماری بنیادی ترجیح ہونی چاہئے ،جسٹس امین الدین
اختیارات کے استعمال میں آئین مقدم ہوناچاہئے ،چیف جسٹس آئینی عدالت کا خطاب سیاسی تنازعات میں الجھاؤ عدالت کی ساکھ کیلئے نقصان دہ ہے :اٹارنی جنرل منصور عثمان
اسلام آباد (کورٹ رپورٹر،دنیا نیوز)وفاقی آئینی عدالت کے چیف جسٹس امین الدین خان نے کہا ہے کہ اختیارات کے استعمال میں آئین کو ہر صورت مقدم رکھا جانا چاہئے ۔وفاقی آئینی عدالت میں عدالتی سال کے آغاز پر تقریب سے خطاب کرتے ہوئے چیف جسٹس نے کہا کہ نئے عدالتی سال کا آغاز انصاف کی فراہمی کے عزم کی تجدید کا دن ہے ، وفاقی آئینی عدالت آئینی معاملات پر ذمہ داریاں بخوبی نبھا رہی ہے ۔ جسٹس امین الدین خان نے کہا کہ آئین کی پاسداری سے ہی معاشرے میں استحکام ممکن ہے ، آئین میں اختیارات اور حدود کا واضح تعین کیا گیا ہے ، انہوں نے کہا کہ عدالتی امور میں جدید ٹیکنالوجی کو بروئے کار لانا ضروری ہے ، وفاقی آئینی عدالت نے مختصر عرصے میں کئی اہم مقدمات کے فیصلے سنائے ، ٹیکنالوجی کا استعمال ادارہ جاتی استعداد اور شفافیت بڑھاتا ہے ، انہوں نے کہا کہ انصاف تک رسائی ہر شہری کا بنیادی حق ہے ، بلا تفریق آئینی انصاف ہماری بنیادی ترجیح ہونی چاہئے ، وائس چیئرمین پاکستان بار کونسل مسعود چشتی نے کہا کہ چیف جسٹس امین الدین خان نے وفاقی آئینی عدالت کے سربراہ کی حیثیت سے بہترین ذمہ داریاں انجام دی ہیں۔
وفاقی آئینی عدالت کے ادارہ جاتی ڈھانچے کی تشکیل ایک بڑا چیلنج تھی، تاہم عدالت نے اپنی آئینی ذمہ داریاں سنجیدگی، توازن اور آئینی بصیرت کے ساتھ انجام دی ہیں۔ صدر سپریم کورٹ بار ہارون الرشید نے کہا کہ بینچ اور بار ایک دوسرے کے مدمقابل نہیں بلکہ انصاف کے دو اہم ستون ہیں۔ عدلیہ کو جہاں اصلاح کی ضرورت ہوگی، وہاں مثبت تجاویز دی جائیں گی،اٹارنی جنرل پاکستان منصور عثمان اعوان نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ وفاقی آئینی عدالت نے 13 نومبر 2025 کو کام شروع کیا، دیگر عدالتیں اپنے ماضی کے نظائر اور روایات کی طرف دیکھ سکتی ہیں لیکن وفاقی آئینی عدالت کے پاس ابھی اپنا ماضی موجود نہیں، 27ویں آئینی ترمیم کے ذریعے آئینی سوالات کے لیے خصوصی عدالت قائم کی گئی اور بعض ایسے اختیارات جو پہلے سپریم کورٹ کے پاس تھے ، وفاقی آئینی عدالت کو منتقل ہوئے ،انہوں نے کہا کہ آئینی عدالت کی ساکھ کا فیصلہ اس کے اپنے ریکارڈ سے ہوگا ،اٹارنی جنرل نے کہا کہ سیاسی نوعیت کے تنازعات کو آئینی زبان میں پیش کرکے عدالت کو الجھانے سے گریز کرنا ہوگا۔ سیاسی تنازعات میں الجھاؤ عدالت کی ساکھ، عوامی اعتماد اور اس کے اصل کام کو نقصان پہنچا سکتا ہے۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments