قیدیوں کی نجی ہسپتال منتقلی کیس آئینی عدالت کے حکم میں 4سوال
اسلام آباد (کورٹ رپورٹر)وفاقی آئینی عدالت نے بانی پی ٹی آئی سمیت تین قیدیوں کو نجی ہسپتال میں طبی سہولیات فراہم کرنے سے متعلق کیس میں اٹارنی جنرل کی جانب سے اٹھائے گئے چار بنیادی قانونی سوالات کو تحریری حکم نامے کا حصہ بنا دیااور سپریم کورٹ سے ہسپتال منتقلی کیس کا تمام ریکارڈ طلب کر لیا ہے ۔
وفاقی آئینی عدالت نے اپنے حکم نامے میں قرار دیا کہ اٹارنی جنرل کی جانب سے اٹھائے گئے قانونی سوالات کی روشنی میں معاملے کا جائزہ لیا جائے گا۔ حکم نامے میں پہلا سوال یہ شامل کیا گیا ہے کہ آئین کے تحت بنیادی حقوق کے نفاذ کا اختیار کس عدالت کو حاصل ہے ؟ ۔دوسرے سوال میں دریافت کیا گیا ہے کہ آئین اور پریزن رولز 1978 کے تحت قیدیوں کو کون سے حقوق حاصل ہیں، تیسرے سوال کے مطابق قیدیوں کے بنیادی حقوق کے حوالے سے ریاست کی ذمہ داریوں کا دائرہ کار اور حدود کیا ہیں ، چوتھے سوال میں یہ نکتہ اٹھایا گیا ہے کہ اگر ریاست کا کوئی عہدیدار قیدی کے بنیادی حقوق کی خلاف ورزی کرے تو اس کے کیا نتائج برآمد ہوتے ہیں؟ ۔وفاقی آئینی عدالت نے سپریم کورٹ سے بانی پی ٹی آئی کے ہسپتال منتقلی سے متعلق کیس کا تمام ریکارڈ بھی منگوا لیا ہے ۔عدالت نے ایڈووکیٹ جنرل اسلام آباد اور ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل پنجاب کو بھی تحریری جوابات جمع کرانے کی ہدایت کی ہے ۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments