کے پی اسمبلی میں گرفتاریوں پر احتجاج، پولیس اختیارمیں کمی کی تجویز
رکن اسمبلی شکیل خان پر مقدمہ ،عارف زئی کا سیکرٹری اور گارڈ اغوا،پولیس ذمہ دارقرار صوبائی وزیر فضل شکور کی گرفتاری کی ویڈیو چلا ئی گئی ،دیکھیں کیسے گرفتار ہوئے :سپیکر
پشاور(مانیٹرنگ ڈیسک)خیبرپختونخوا اسمبلی نے صوبائی وزیر فضل شکور کی گرفتاری کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے اغوا قرار دیا ،گرفتاریوں کیخلاف احتجاج کرتے ہوئے پولیس کو مورد الزام ٹھہرایا گیا اور اختیارات کم کرنے کی تجویز دی گئی ۔خیبرپختونخوا اسمبلی کا اجلاس سپیکر بابر سلیم سواتی کی زیر صدارت ہوا جس میں وزیراعلیٰ سہیل آفریدی بھی شریک ہوئے ۔بابر سلیم سواتی نے کہا کہ دو روز سے اس صوبے میں پو لیس اور ضلعی انتظامیہ موجود ہونے کے باوجود گرفتاری کے نام پر اغوا کی وارداتیں ہورہی ہیں، صوبائی وزیر قانون آفتاب عالم نے کہا کہ شکیل خان پر 324 کے تحت مقدمہ درج کیا گیا ،اس کے علاوہ ایم پی اے زاہد اللہ کے بیٹے ، صوبائی وزیر عارف احمد زئی کے سیکرٹری اور گارڈ کو اغوا کیا گیا ہے ،وزیر قانون نے کہا ہمیں پیغام دیا جارہا ہے کہ حکومت کی کوئی حیثیت نہیں، وزیر قانون نے کہا کہ شہداء کا پیکیج چالیس لاکھ سے بڑھا کر ایک کروڑ دس لاکھ روپے کر دیا،ساری کوتاہیوں اور کمی کے باوجود ہم نے کوئی کارروائی نہیں کی، اس کے باوجود پولیس غیر ذمہ داری کا مظاہرہ کرے گی، پھر مجبور ہوں گے ہم بھی سخت کارروائی کریں،پورے ایوان کا مطالبہ ہوگا کہ پولیس کے اختیارات کم کیے جائیں اور سخت سزائیں تجویز کی جائیں۔ ایوان میں چیف سیکرٹری خیبرپختونخوا پہنچے تو سپیکر نے کہا کہ چیف سیکرٹری، آئی جی، ججز، پولیس افسر ، ڈی سی کو اسمبلی رولز بھجوائے ہیں، تمام معاملات آئین کے تحت چلتے ہیں ۔ سپیکر نے اجلاس کے دوران صوبائی وزیر فضل شکور کی گرفتاری کی ویڈیو چلا دی اور کہا کہ ویڈیو میں دیکھیں ایک صوبائی وزیر کو کیسے گرفتار کیا جارہا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ کوئی مقدمہ ہے کیس ہے تو ایک پولیس اہلکار بھی گرفتار کرسکتا ہے ، کسی کو غیر قانونی حکم نہیں ماننا چاہیے ۔سپیکر اسمبلی نے کہا کہ آئی جی اور چیف سیکرٹری سے توقع رکھتا ہوں کہ ڈیوٹی اپنے حلف کے مطابق ادا کریں گے ۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments