پنجاب کے4اضلاع میں رینجرز تعیناتی کی منظوری:راولپنڈی،اٹک میں موبائل اور انٹرنیٹ سروس ڈاؤن گریڈ کی جائے صوبائی حکومت کا وزارت داخلہ کو مراسلہ

پنجاب کے4اضلاع  میں رینجرز تعیناتی کی منظوری:راولپنڈی،اٹک میں موبائل اور انٹرنیٹ سروس ڈاؤن گریڈ کی جائے صوبائی حکومت کا وزارت داخلہ کو  مراسلہ

راولپنڈی، اٹک، جہلم،میانوالی میں رینجرز کے دستے 5 اکتوبر تک تعینات ، اسلام آباد میں سکیورٹی انتظامات مکمل، پولیس کو1لاکھ آنسو گیس شیلز،3 ہزار آنسو گیس گنز،9کروڑ کے فنڈز فراہم پولیس نفری 46ہزار سے بڑھا کر 50 ہزار کر دی گئی ، 2 لاکھ سے زائد ریت کی بوریاں طلب،ریڈزون سیل،بعض مقامات پر کنٹینرز کی د ہری تہہ ،اسلام آباد میں بھی دفعہ 144نافذ

اسلام آباد (آئی این پی،مانیٹرنگ ڈیسک) پنجاب کے 4اضلاع میں رینجرز تعیناتی کی منظور ی دیدی گئی ہے جبکہ پنجاب حکومت نے وفاقی حکومت کوخط لکھ کر 27 ستمبر سے راولپنڈی اور اٹک کے اضلاع میں موبائل فون اور انٹرنیٹ سروسز کی بندش اور اسے ڈاؤن گریڈ(رسائی محدود )کرنے ،اور بعض مقامات پر انٹرنیٹ سروس مکمل بند کرنے کی درخواست کی ہے ، خط میں بتایا گیا ہے کہ یہ درخواست سینٹرل پولیس آفس لاہور کی جانب سے صوبے میں امن و امان کی صورتحال کے پیش نظر موصول ہوئی ہے ،مراسلے میں وفاقی حکومت سے درخواست کی گئی ہے کہ راولپنڈی کے مخصوص مقامات پر ٹو جی، تھری جی اور فور جی موبائل سروسز کی جیمنگ کی جائے ، جبکہ برہما بہتر تا موٹر وے ایم-1، گنگو، اہاتہ، ٹیکسلا سٹی، واہ صدر، ٹھلیاں اور چکری میں 27 ستمبر 2026 کی صبح 9 بجے سے موبائل اور انٹرنیٹ سروسز مکمل معطل کر دی جائے ،اسی طرح اٹک کے  والے سے کہا گیا ہے کہ پورے ضلع میں 27 ستمبر سے تاحکم ثانی موبائل فون اور انٹرنیٹ سروس تک رسائی محدود کر دی جائے ،دوسری طرف وفاقی حکومت نے پنجاب میں فوج اور رینجرز کی تعیناتی کی درخواست منظور کرلی ہے ، ذرائع کے مطابق راولپنڈی، اٹک، جہلم اور میانوالی میں رینجرز کے دستے 5 اکتوبر 2026 تک تعینات رہیں گے ، دریں اثنا تحریک انصاف کے 27 ستمبر کے لانگ مارچ کے پیش نظر وفاقی دارالحکومت میں سکیورٹی کے غیر معمولی انتظامات مکمل کر لیے گئے ہیں، پولیس ذرائع کے مطابق مختلف اضلاع اور پولیس یونٹس سے نفری کی اٹک، راولپنڈی اور اسلام آباد روانگی شروع ہوگئی ہے۔

تینوں شہروں میں پنجاب پولیس کی مجموعی نفری 46 ہزار سے بڑھا کر 50 ہزار کردی گئی ہے ، پولیس ذرائع کے مطابق نفری کی نقل و حرکت کے لیے تقریباً 9 کروڑ روپے کے فنڈز جاری کئے گئے ہیں،پولیس کو ایک لاکھ آنسو گیس شیلز اور 3 ہزار آنسو گیس پھینکنے والی گنز فراہم کردی گئی ہیں جبکہ 10 بکتر بند گاڑیاں بھی دی جارہی ہیں ، شہر کے انٹری پوائنٹس بند کرنے کے لیے 210 کنٹینرز درکار ہیں، اسلام آباد پولیس نے 2 لاکھ سے زائد ریت کی بوریاں بھی منگوا لی ہیں ، ریڈ زون کو چاروں اطراف سے سیل کر دیا گیا ہے ،سکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ ریڈ زون میں بعض مقامات پر کنٹینرز کی دہری تہہ لگا دی گئی ہے ،شہر کی نگرانی پندرہ ہزار سے زائد سی سی ٹی وی کیمروں کی مدد سے کی جا رہی ہے جبکہ ڈرون کیمروں کے ذریعے فضائی نگرانی کا عمل بھی جاری ہے ،شہر کے ریستوران، ہوٹلوں اور سرائے خانوں کی مسلسل چھان بین کی جا رہی ہے ،دوسری طرف پنجاب کے بعد وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں بھی دفعہ 144 نافذ کردی گئی ہے جس کے تحت شہر میں کسی بھی قسم کے اجتماع پر پابندی ہے ، ضلعی انتظامیہ کے مطابق خلاف ورزی کی صورت میں قانون کے مطابق سخت کارروائی کی جائے گی، ایکٹ کی خلاف ورزی کرنے پر تین سال قید کی سزا ہے ۔

 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

Comments / رائے دیں

Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.

Your comment will remain hidden until approved by admin.

Approved Comments

Loading comments...