آئی ایم ایف کیساتھ تکنیکی مذاکرات شروع ،سعودیہ کے3ارب ڈالر شارٹ ٹرم ڈیپاز ٹس پر بریفنگ
3 ارب ڈالر واپس کرنے کی تیاریاں،مزید توسیع کی خواہش،ڈیپازٹس سرمایہ کاری میں تبدیل کرنے پر بات چیت جاری 17 ارب ڈالر سے زائد زرمبادلہ کا ہدف حاصل، رواں سال مہنگائی 8.3 فیصد ،شرح نمو 3.7 فیصد رہے گی:اے ڈی بی
اسلام آباد (مدثر علی رانا) آئی ایم ایف کا وفد اقتصادی جائزہ مذاکرات کے لیے پاکستان پہنچ گیا۔ مرکزی بینک حکام کے ساتھ یو اے ای کو 3 ارب ڈالر کی ادائیگیوں اور سعودی عرب سے شارٹ ٹرم بنیادوں پر انتظامات کے بارے میں بریفنگ دی گئی۔ باوثوق ذرائع کے مطابق آئی ایم ایف وفد کو بتایا گیا کہ سعودی عرب کے 3 ارب ڈالر کے شارٹ ٹرم ڈیپازٹ کو بھی واپس کرنے کی تیاریاں کی گئی ہیں تاہم پاکستان شارٹ ٹرم ڈیپازٹ کو مزید توسیع دلوانے کا خواہشمند ہے اور اسے سرمایہ کاری میں کنورٹ کرنے پر بھی بات چیت ہو رہی ہے ۔آئی ایم ایف وفد کی جانب سے ایکسٹرنل ادائیگیوں اور انتظامات پر مرکزی بینک حکام کے ساتھ تکنیکی سطح کے مذاکرات انتہائی اہم ہیں۔ ذرائع وزارت خزانہ کے مطابق آئی ایم ایف مشن نے سٹیٹ بینک حکام سے مذاکرات کا آغاز کر دیا ۔ پہلے مرحلے میں سٹیٹ بینک حکام کے ساتھ ٹیکنیکل مذاکرات ہوں گے جن میں معاشی کارکردگی پر بریفنگ دی گئی۔
پاکستان نے زرمبادلہ کے ذخائر کو 17 ارب ڈالر سے زیادہ رکھنے کا ہدف حاصل کرلیا ۔ٹیکنیکل مذاکرات میں کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ، بنیادی شرح سود اور ایکسچینج ریٹ پر بات ہوگی۔ آئی ایم ایف کا وفد مرکزی بینک سے مذاکرات کے بعد 25 ستمبر کو اسلام آباد روانہ ہوگاجبکہ باقاعدہ مذاکرات کا آغاز 28 ستمبر سے ہوگا۔ علاوہ ازیں ایشین ڈویلپمنٹ بینک کی پاکستان کی معیشت سے متعلق تازہ جائزہ رپورٹ میں بتایا گیا کہ پاکستان کی اقتصادی شرح نمو مالی سال 2026 میں 3.7 فیصد رہی جبکہ مالی سال 2025 میں اقتصادی شرح نمو 3.2 فیصد رہی تھی۔ مالی سال 2026 کے پہلے 9 ماہ میں اقتصادی شرح نمو اوسطاً 4 فیصد رہی۔ مشرق وسطیٰ تنازع کے باعث مالی سال 2026 کی آخری سہ ماہی میں معاشی سرگرمیاں متاثر ہوئیں۔پاکستان میں زرعی شعبے کی شرح نمو مالی سال 2026 میں 2.9 فیصد رہی، جبکہ مالی سال 2025 میں یہ 1.5 فیصد تھی۔ صنعتی پیداوار مالی سال 2026 میں 3.5 فیصد بڑھی، مینوفیکچرنگ شعبے کی شرح نمو 6.6 فیصد رہی اور بڑی صنعتوں کی پیداوار 6.1 فیصد بڑھی۔ خدمات کے شعبے کی شرح نمو 4.1 فیصد رہی جبکہ انفارمیشن اور کمیونیکیشن شعبے کی شرح نمو 7.5 فیصد رہی۔
پاکستان میں نجی سرمایہ کاری مالی سال 2026 میں 8.6 فیصد بڑھی جبکہ حکومتی اخراجات میں 11.2 فیصد اضافہ ہوا۔ حقیقی برآمدات میں 5.9 فیصد اضافہ اور حقیقی درآمدات میں 6.8 فیصد کمی ہوئی۔ مالی سال 2026 کے دوران مہنگائی کی اوسط شرح 7.1 فیصد رہی جبکہ مالی سال 2025 میں اوسط مہنگائی 4.5 فیصد تھی۔ مئی 2026 میں مہنگائی کی شرح 11.7 فیصد کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی۔ مہنگائی کے دباؤ کے باعث سٹیٹ بینک نے اپریل 2026 میں شرح سود 11.5 فیصد کردی۔پاکستان کا کرنٹ اکاؤنٹ مالی سال 2026 میں 30 کروڑ 40 لاکھ ڈالر خسارے میں رہا۔ اشیا کی برآمدات 4.7 فیصد کم ہوکر 30.8 ارب ڈالر جبکہ درآمدات 9 فیصد بڑھ کر 64.5 ارب ڈالر رہیں۔ ترسیلات زر 8.6 فیصد اضافے سے 41.6 ارب ڈالر رہیں۔ مالی سال 2026 کے اختتام پر پاکستان کے زرمبادلہ ذخائر 18.5 ارب ڈالر تک پہنچ گئے جبکہ جون 2025 کے اختتام پر یہ 14.5 ارب ڈالر تھے ۔پاکستان نے اپریل، مئی 2026 میں 75 کروڑ ڈالر کا یورو بانڈ اور 25 کروڑ ڈالر کا پانڈا بانڈ جاری کیا۔ پاکستان کی معاشی شرح نمو مالی سال 2027 میں 3.7 فیصد رہنے اور مہنگائی کی اوسط شرح 8.3 فیصد رہنے کی پیشگوئی کی گئی ۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments