گورنر راج کا آپشن پختونخوا حکومت پر دباؤ کی حکمت عملی کا حصہ
وفاق کو سو مرتبہ سوچنا پڑے گا،اقدام سے پی ٹی آئی کو مظلوم بننے کا موقع ملے گا
(تجزیہ:سلمان غنی )
اسلام آباد لانگ مارچ کے حوالہ سے پختونخوا میں پیدا شدہ صورتحال اور خصوصاً وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کی جانب سے حکومت اور ریاست کے حوالہ سے اختیار کئے جانے والے طرز عمل کے بعد پختونخوا میں گورنر راج کی افواہیں گردش کر رہی ہیں ، اس کی ایک وجہ خود صوبائی حکومت کی جانب سے ایسی کوشش ہے جس کے تحت وفاق سے آنے والے افسروں کو ایک قانون سازی کے ذریعے صوبائی حکومت کے سامنے جوابدہ بنایا جائے ، ویسے تو وفاقی وزیر اطلاعات عطا تارڑ نے پختونخوا میں گورنر راج کے نفاذ کی تردید کی ہے لیکن پختونخوا کی صورتحال پر نظر رکھنے والے اسلام آباد کے ذمہ داران اسے خارج از امکان بھی قرار نہیں دے رہے ، وہ یہ کہتے نظر آ رہے ہیں کہ گورنر راج کوئی غیر آئینی عمل نہیں اور آئین کے تحت اس کا طریقہ کار موجود ہے اور آئین میں اس عمل کی موجودگی ہی کسی ہنگامی صورتحال کے لئے ہے ، سیاسی صورتحال پر گہری نظر کے حامل ماہرین فی الحال اس آپشن کو پختونخوا حکومت پر دباؤ کی حکمت عملی قرار دیتے نظر آ رہے ہیں تاکہ 27ستمبر کے مارچ پر اثر انداز ہوا جا سکے۔
لہٰذا اس امر کا تجزیہ ضروری ہے کہ گورنر راج کا نفاذ پختونخوا میں ممکن ہے ،آئینی طور پر صدر وزیراعظم کی مشاورت سے آرٹیکل 232کے تحت کسی صوبے میں گورنر راج نافذ کر سکتے ہیں بشرطیکہ وہاں ایمرجنسی کے حالات پائے جائیں تاہم اس کے لئے پارلیمنٹ کی منظوری لازم ہوتی ہے حکومتی وزرا اسے ایک آئینی آپشن تو قرار دیتے نظر آتے ہیں لیکن اس کے نفاذ بارے فی الحال محتاط ہیں، خیبر پختونخوا کے ایڈووکیٹ جنرل نے کہا ہے کہ یہاں اس کے نفاذ کا کوئی آئینی و قانونی جواز نہیں کیونکہ صوبے میں نہ ایمرجنسی ہے اور نہ ہی معاشی عدم استحکام، وفاقی وزرا کا کہنا ہے کہ صوبائی حکومت نے دہشت گردی سے نمٹنے کے بجائے سیاسی لڑائی میں صوبہ کو تنہا چھوڑ دیا ہے ، ماہرین کا کہنا ہے کہ پختونخوا کے حالات کو جان بوجھ کر ایک ایسی کیفیت سے دوچار کر دیا گیا ہے کہ وفاق کو کسی آئینی اقدام خصوصاً گورنر راج بارے سو مرتبہ سوچنا پڑے گا، ان ماہرین کے خیال میں پی ٹی آئی کو اس صورت میں مظلوم بننے کا موقع ملے گا اور اس سے سیاسی عدم استحکام بڑھے گا ،ان کا کہنا ہے کہ ا س حوالہ سے کہیں کوئی سنجیدہ تجویز نہیں البتہ کسی بھی ہنگامی صورتحال میں اسے خارج از امکان قرار نہیں دیا جا سکتا ، سیاسی امور کے ماہرین کا کہنا ہے کہ بات چیت اور سیاسی مفاہمت کے امکانات کے خاتمہ کے بغیر گورنر راج کو حتمی فیصلہ سمجھنا قبل از وقت ہوگا، یاد رہے کہ ماضی میں پیپلز پارٹی کی وفاقی حکومت نے پنجاب میں وزیراعلیٰ شہباز شریف کی حکومت کاخاتمہ کر کے گورنر راج کا نفاذ کیا تھا اور وہ چند ہفتے بھی نہ چل پایا اور وزیراعلیٰ شہباز شریف کی حکومت بحال ہو گئی تھی ۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments