آئی ایم ایف کے ساتھ مذاکرات ، سرکاری ملازمین کے اثاثے ظاہر کرنے پر بریفنگ :عالمی مالیاتی ادارہ پنجاب اور خیبر پختونخوا حکومتوں سے بھی بات چیت کر ے گا
سرکاری افسروں کے اثاثوں کی تفصیل ویب سائٹ پر دستیاب ،آمدن سے زائد اثاثوں پر سول سرونٹس ایکٹ کے تحت کارروائی،بیشتر طے شدہ اہداف حاصل کر لئے :حکام وفدکا معاشی کارکردگی پر اظہار اطمینان،پروگرام پر سختی سے عملدرآمد کا مطالبہ،مذاکرات آئندہ ہفتے تک جاری ،وزیر خزانہ 2 اکتوبر کو شریک ، 1.2 ارب ڈالرملنے کی توقع
اسلام آباد(مدثرعلی رانا)آئی ایم ایف وفد کیساتھ اسٹیبلشمنٹ ڈویژن،وزارت خزانہ اور ایف بی آرحکام کے تکنیکی سطح کے مذاکرات کا باقاعدہ آغاز ہو گیا ہے ، وفد کو گزشتہ روز پٹرول سبسڈی سکیم اور سرکاری ملازمین کے اثاثوں پر تفصیلی بریفنگ دی گئی ،پاکستان کی معاشی ٹیم آئی ایم ایف کیساتھ 7 ارب ڈالر قرض پروگرام کے اقتصادی جائزہ پر مذاکرات کر رہی ہے ،ذرائع نے بتایا ہے کہ آئی ایم ایف وفد نے مذاکرات میں حکومت کی معاشی کارکردگی پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے پروگرام پر سختی سے عملدرآمد کا مطالبہ کیا ہے ،ایف بی آر، اسٹیبلشمنٹ ڈویژن اور فنانس ڈویژن کے حکام نے آئی ایم ایف وفد سے ملاقاتیں کیں، آئی ایم ایف مشن کو ایف بی آر کی جانب سے کسٹمز،انکم ٹیکس اور دیگرسرکاری ملازمین کے اثاثے ظاہر کرنے کے قانون پر بریفنگ دی گئی ،وفد کو بتایا گیا کہ حکومت سرکاری ملازمین کے مالی معاملات کو ریگولیٹ اور مانیٹر کرسکے گی، اثاثے آمدن سے زائد ظاہر ہونے پر سول سرونٹس ایکٹ کے تحت کارروائی بھی ہو سکے گی ، زائد اثاثوں کی چھان بین کی جائے گی ،گریڈ 17 سے 22 تک کے افسر اثاثے ظاہر کرنے کے پابند ہوں گے ، سرکاری افسروں کے اثاثوں کی تفصیلات ویب سائٹ پر دستیاب ہوں گی۔
،حکام نے بریفنگ کے دوران بتایا کہ آئی ایم ایف کیساتھ طے شدہ بیشتر اہداف حاصل کر لئے گئے ہیں، وزارت خزانہ اور آئی ایم ایف کے مذاکرات کا آغاز بھی ہو گیا۔ ذرائع وزارت خزانہ کے مطابق مذاکرات آئندہ ہفتے تک جاری رہیں گے ، آئی ایم ایف کا وفد وزیر خزانہ محمد اورنگزیب سے بھی ملاقات کرے گا، وزیرخزانہ 2 اکتوبر کو وطن واپس پہنچ کر پالیسی مذاکرات میں شریک ہونگے ۔ ذرائع کے مطابق آئی ایم ایف کو وزیراعظم کی پٹرول سبسڈی سکیم پر بھی بریفنگ دی گئی۔ وفد کو 30 جون 2026 تک کی ٹیکس اور نان ٹیکس آمدن پر بریفنگ دی جائے گی ، جون 2026 تک پٹرولیم ڈویلپمنٹ لیوی کا ہدف 1468 ارب روپے تھا جبکہ جون 2026 تک پٹرولیم ڈویلپمنٹ لیوی 1567 ارب روپے جمع ہوئی، وفد کو بتایا جائے گا کہ پاکستان نے بیشتر معاشی اہداف حاصل کر لئے ہیں، کامیاب مذاکرات کی صورت میں پاکستان کیلئے پانچویں قسط کی منظوری ہوسکتی ہے ، جائزوں کی تکمیل کے بعد مجموعی طور پر تقریباً 1.2 ارب ڈالر کی مالی معاونت ملنے کی توقع ہے۔
، ذرائع وزارت خزانہ نے کہا ہے کہ پاکستانی حکام اورآئی ایم ایف کے مذاکرات 30 جون تک کے اعداد وشمار پر ہوں گے ، پاکستان کی طرف سے ساورن ویلتھ فنڈ اورگردشی قرض میں کمی پربریفنگ دی جائے گی، آئی ایم ایف کو چینی کا شعبہ ڈی ریگولیٹ نہ کرنے کی وجوہات سے آگاہ کیا جائے گا ،ذرائع وزارت خزانہ کے مطابق آئی ایم ایف کو کرنٹ اکاؤنٹ خسارے ، پرائمری سرپلس صورتحال ، غیرملکی زرمبادلہ اور شرح تبادلہ سے بھی آگاہ کیا جائے گا، آئی ایم ایف اور ایف بی آرکے مذاکرات میں ٹیکس نیٹ بڑھانے اوراصلاحات پربات چیت کی جائے گی، وزارت توانائی کی جانب سے گردشی قرض اوراصلاحات پربریفنگ دی جائے گی جبکہ نیب اورایف آئی اے اینٹی منی لانڈرنگ اور دہشت گردوں کی فنڈنگ روکنے کے اقدامات سے آگاہ کریں گے ، اس کے علاوہ آئی ایم ایف وفد پنجاب اورکے پی حکومتوں سے بھی مذاکرات کرے گا، صوبوں سے ٹیکس اورنان ٹیکس ریونیووصولی بہتربنانے کے اقدامات پربات چیت کی جائے گی ، ذرائع وزارت خزانہ کے مطابق معاشی ٹیم کے باقاعدہ تکنیکی سطح کے مذاکرات پٹرولیم لیوی پر خصوصی سیشنز ہوں گے جبکہ اکتوبر کے پہلے ہفتے میں نئی قسط کے حصول کیلئے پالیسی مذاکرات ہونگے ۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments