خیبرپختونخواحکومت کا مستقبل کیا آئینی عدالت متعین کریگی؟
دہشتگردی کیخلاف اقدامات سے متعلق تحفظات کو سنجیدہ شکایت قرار دیاجاسکتا
(تجزیہ:سلمان غنی)
وفاقی حکومت نے پی ٹی آئی کے احتجاج اور لانگ مارچ کے جواب میں ان کی حکومتی کارکردگی، دہشتگردی کے خاتمہ میں ان کے کردار اور خصوصاً افغان انتظامیہ کے حوالے سے ان کے سافٹ کارنر کو ہتھیار بناتے ہوئے جارحانہ انداز اختیار کرنے کا فیصلہ کیا ہے ،جسے خیبرپختونخوا میں سیاسی تبدیلی کے حوالے سے اہم قرار دیا جا رہا ہے ۔ ذمہ دار حکومتی ذرائع کے مطابق اسلام آباد اس امر پر سنجیدگی سے غور کر رہا ہے کہ سیاسی تحفظات اپنی جگہ لیکن خیبرپختونخوا میں بڑھتے ہوئے دہشت گردی کے رجحان کو اب وہاں موجودہ حکمرانوں پر نہیں چھوڑا جا سکتا اور دہشت گردی کی جڑیں کاٹنے کیلئے بڑے اقدامات کا وقت آ گیا ہے ، اس کیلئے گورنر راج ،ایمرجنسی اور موجودہ وزیراعلیٰ سے نجات کیلئے آئینی عدالت سے رجوع کے آپشنز شامل ہیں۔ اگرچہ خیبرپختونخوا حکومت کا موقف ہے کہ دہشتگردی سے نمٹنے کیلئے انہیں وفاق سے وسائل فراہم نہیں کئے گئے ،تاہم بعض اہم اداروں نے حکومت کو فراہم کی جانے والی رپورٹس میں واضح کیا ہے کہ خیبرپختونخواحکومت نہ صرف دہشت گردی کا سدباب نہیں کر رہی بلکہ ان کی سہولت کاری کی مرتکب ہو رہی ، سب سے بڑھ کرانتظامیہ کی دہشت گردی سے لڑنے کی صلاحیت کو بتدریج کمزور کیا گیا ہے ۔رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ اکتوبر 2025 سے اب تک وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے شمالی وجنوبی وزیرستان، مہمند ،اورکزئی کا کوئی دورہ نہیں کیا اور نہ ہی شہدا کے جنازوں میں شرکت کی اوردہشت گردی کے سدباب کیلئے اب تک محض ایک ایپکس کمیٹی کا اجلاس ہوا ،جس کی سفارشات پر بھی ان کی سپرٹ کے مطابق عملدرآمد نہیں ہوا۔ گزشتہ ایک سال میں خیبرپختونخوا میں 19 خودکش حملے ہوئے جن میں 12 حملے افغان نژاد دہشت گردوں نے کئے ۔صوبائی حکومت کے باعث صرف 2024-25 میں خیبر پختونخوا میں دہشت گردی میں 52فیصد اضافہ ہوا جبکہ اغوا اور قتل کے واقعات میں 23 فیصد اضافہ ہوا۔ منشیات اور سمگلنگ میں 15فیصد تک کا اضافہ ہوا، خیبرپختونخوامیں جنوری تا ستمبر دہشت گردوں کے حملوں کی تعداد680 رہی جو کہ 2025ء میں 508 تھے ،یوں 33.9فیصد اضافہ ہوا، خیبرپختونخوا میں 2026ء کی پہلی ششماہی میں 122 پولیس اہلکار شہید ہوئے جبکہ 2025 میں یہ شہادتیں 63 تھیں ،یوں اضافہ 93.7 فیصد رہا۔ مذکورہ رپورٹس میں حال ہی میں خیبرپختونخوا حکومت کی جانب سے پولیس ایکٹ میں ترمیم کے عمل کو پولیس کی اہلیت پر اثرانداز ہونے کی کوشش قراردیتے ہوئے کہا گیا کہ اس کا مقصد یہ ہے کہ پولیس جو فوج کے ساتھ ملکر دہشت گردی کے اس ناسور کو ختم کرنے میں جرات مندانہ کردار ادا کررہی ہے اس کی صلاحیتوں کو متاثر کیا جائے اور اسے اپنے ماتحت بنا کر اپنے سیاسی مفادات کی تکمیل کی جائے ، یہ ایک انتہائی خطرناک اور ناقابل قبول اقدام ہے جس کی کسی صورت اجازت نہیں ہونی چاہئے ۔ مذکورہ رپورٹس سے عیاں ہے کہ سکیورٹی فورسز جو دن رات دہشت گردی کے خلاف سرگرم عمل ہیں انہیں خیبر پختونخوا حکومت سے متعلق تحفظات ہیں اور وہ صوبائی حکومت کی جانب سے ممکنہ سپورٹ چاہتے ہیں جو حکومت کی آئینی ذمہ داری بھی ہے وہ انہیں نہیں مل رہی ،اسے ایک سنجیدہ شکایت قرار دیا جا سکتا ہے ۔حکومت اب جن آپشنزپر غور کررہی ہے وہ تینوں آئینی آپشنز ہیں، گورنر راج اور ایمرجنسی دونوں آپشنز میں صدر مملکت کا کردار اہم ہوتا ہے اور اس کیلئے پارلیمانی منظوری کا عمل بھی ناگزیر ہے ۔ البتہ ایک بڑا آپشن آئینی عدالت سے رجوع کا ہے ، عدالت کی اصل توجہ آئینی جواز اور قانونی طریقہ کار پر ہوتی ہے ۔ جہاں تک پی ٹی آئی کے چار اکتوبر کے احتجاج اور لانگ مارچ کا تعلق ہے تو فی الحال اس میں سنجیدگی نظر نہیں آ رہی اور 27 ستمبر کے احتجاج کو مؤخر کرنے کے عمل سے احتجاج کا مومینٹم بھی ٹوٹ چکا ہے ۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments